واضح رہے کہ بیوی کا نان و نفقہ شوہر پر تب لازم ہوتا ہے جب بیوی اپنے آپ کو شوہر کے سپر د کردے لیکن اگر وہ شوہر کی اجازت کے بغیر میکے میں رہتی ہے اور شوہر کے بلانے پر بھی گھر واپس نہیں آتی تو وہ ناشزہ یعنی نافرمان ہے، اور ناشزہ بیوی جب تک شوہر کے گھر نہ آجائے اس وقت تک اس کا نان و نفقہ شوہر کے ذمہ لازم نہیں ہوتا۔
الدر المختار (٥٧٥/٣) سعيد
(لا) نفقة لأحد عشر : مرتدة، ومقبلة ابنه ، ومعتدة موت ومنكوحة فاسدا وعدته، وأمة لم تبوأ، وصغيرة لا توطأ، و (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشرة حتى تعود
الفتاوى الهندية (٥٤٥/١) دار الفكر
وإن نشرت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشرة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (٨٤/٢) المطبعة الخيرية
(قوله وإن نشرت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله ) النشوز خروجها من بيته بغير إذنه بغير حق