بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

جوان بیٹی کا ہاتھ شہوت کے ساتھ اپنے جسم پر لگانا

سوال

میں شادی شدہ ہو ں اللہ تعالی نے مجھےاپنی رحمتوں اورنعمتوں سے نوازا ہے، دین کے علم سے محروم ہوں ۔مجھ سے ایک بہت بڑا گناہ ہو گیاہے، اپنی جوان بیٹی کا ہاتھ اپنے نفس پر لگایا، استغفر اللہ ۔ بعد میں مجھے احساس ہوا کہ بہت بُرا ہوا۔ اللہ کےخوف سے اور لوگوں کی باتوں میں آکر اپنی بیوی کو بھی تین دفعہ لفظ طلاق کہہ چکا ہوں ایک کے بعد دوسرا جرم بھی ہوا ۔ آپ برائے مہربانی مجھے شرعی احکام کی صورت میں رہنمائی فرمائیں کہ اب میں کیاکروں یعنی شرعی حکم میرے لئےکیاہے؟

جواب

اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرے یاشہوت کےساتھ اس کو ہاتھ لگادے یاشہوت سے بوسہ لے یاشرمگاہ کے اندروی حصہ کوبشہوت دیکھ لے تو ان سب صورتوں میں حرمت مصاہرت قائم ہوجاتی ہے یعنی اس مرد پر اس عورت کی بیٹی اورماں وغیرہ سب اصول وفروع نسبی ورضاعی حرام ہوجاتے ہیں اسی طرح اگرعورت کسی مرد کوشہوت سے ہاتھ لگادے یا بوسہ لے یاعضو مخصوص پر شہوت سےنظر ڈالے تب بھی مصاہرت کاعلاقہ قائم ہوکر مرد پر عورت کے تمام اصول وفروع اور عورت پر مرد کے تمام اصول وفروع ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہیں۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر آپ نے اپنی جوان بیٹی کا ہاتھ شہوت کےساتھ اپنے نفس پر لگایا اوردرمیان میں کوئی ایسا حائل بھی نہیں تھا جو جسم کی حرارت محسوس کرنے سے مانع ہو تو ایسی صورت میں آپ کا نکاح ختم ہوگیا ہے ، بیوی آپ پر ہمیشہ کےلئے حرام ہوگئی ہے اب دوبارہ نکاح کی کوئی صورت نہیں اور طلاق کے وقت سے بیوی عدت گزار کر کہیں اور شادی کرسکتی ہے۔
البناية شرح الهداية (5/ 37)دارالكتب العلمية
وعن ابن عمر _ – رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ – _ أنه قال: إذا جامع الرجل المرأة أو قبلها أو لمسهابشهوة أو نظر إلى فرجها بشهوة حرمت على أبيه وابنه وحرمت عليه أمها وابنتها، انتهى. … وفي ” طلاق المنتقى ” للحسن بن زياد عن أبي يوسف: إذا لمس شهوة من جسد أم امرأته من فوق الثياب عن شهوة وهو يجد من جسدها حرارة حرمت عليه امرأته۔
رد المحتار (3/ 28)سعيد
[فصل في المحرمات] … وكذا المقبلات أو الملموسات بشهوة لأصوله أو فروعه أو من قبل أو لمس أصولهن أو فروعهن۔
الدر المختار (3/ 37)سعيد
وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس