موکل اور جنات کا تابع کرنا اگر آیات قرآنی کو ناجائز طریق پر عمل کرنے سے ہو ،تو ناجائز اور حرام ہے اگر جائز طریق عمل کرنے سے ہو تب بھی اپنے منافع کی غرض سے ایک دوسری مخلوق کو پریشان کرنا اور تابع کرنا جائز نہیں،نیز اس میں بہت سے مفاسد ہے :بعض دفعہ نا تجربہ کارری سے عمل الٹا پڑھ جاتا ہے ،بعض دفعہ نا واقفیت سے الفاظ صحیح نہیں پڑھے جاتے جس سے معنی بدل جاتے ہیں اور عذاب کا اندیشہ ہے ،پرہیز اگر پورا پورا نہ ہو سکے تو بسا اوقات جنات نقصان پہنچاتے ہیں،قتل کر ڈالتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔رہا آسیب کا اثر زائل کرنا تو وہ مؤکلات کے تابع کرنے پر موقوف نہیں ،بلکہ اس کے اور بھی طریق ہیں جو جائز اور بے خطرہ ہیں۔
احکام القرآن للتھانوی(4/44)ادارۃالقرآن کراچی
نعم،یشھد فعلہ علیہ السلام علی ان تسخیر الجن کان غیر مرضی عندہ:لکمال الادب فی شان سلیمان علیہ السلام فغیرہ اولی بہ ،وھذا الذی قلنامن جوازہ اذا کان الجن یحل استعبادہ و تسخیرہ من الکفرۃ، واما المسلم فلا یحل استرقاقہ،او تقییدہ من غیر وجہ کما فی الانسان ،کما لایخفی۔
آکام المرجان،الباب الثامن والاربعون(100)خیر کثیر
فَإِذا تقرب صَاحب العزائم والأقسام وَكتب الروحانيات السحرية وأمثال ذَلِك إِلَيْهِم بِمَا يحبونه من الْكفْر والشرك صَار ذَلِك كالرشوة والبرطيل لَهُم فيقضون بعض أغراضه كمن يعْطى غَيره مَالا ليقْتل لَهُ من يُرِيد قَتله أَو يُعينهُ على فَاحِشَة أَو ينَال مَعَه فَاحِشَة وَلِهَذَا كثير من هَذِه الْأُمُور يَكْتُبُونَ فِيهَا كَلَام الله تَعَالَى بِالنَّجَاسَةِ وَقد يقلبون حُرُوف {قل هُوَ الله أحد} أَو غَيرهَا بِنَجَاسَة۔