ایک شخص نے میرے چچا کو آج سے پچیس/تیس برس پہلے چار ہزار ریال قرض میں دیئے تھے اب وہ قرض پورے کے پورے چار ہزار ریال ہی مانگ رہا ہے اب سوال یہ ہے کہ: (1)اگر چار ہزار ریال ہی قرض ادا کئے جائیں تو(چونکہ پچیس /تیس برس پہلے کی بنسبت ریال کی قیمت کافی بڑھ چکی ہے)کیا یہ اضافی قیمت سود میں شمار ہوگی یا نہیں ؟ (2)اگر انہوں نے اس طرح پورے کے پورے چار ہزار ریال ہی کی شرط لگائی گئی ہو تو کیا یہ شرط ٹھیک ہے یا نہیں ؟
الدر المختار (5/ 162) سعید
(استقرض من الفلوس الرائجة والعدالي فكسدت فعليه مثلها كاسدة) و (لا) يغرم (قيمتها) وكذا كل ما يكال ويوزن لما مر أنه مضمون بمثله فلا عبرة بغلائه ورخصه ذكره في المبسوط من غير خلاف۔
رد المحتار (5/ 162)
وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه، وكذلك لو قال أقرضني عشرة دراهم غلة بدينار، فأعطاه عشرة دراهم فعليه مثلها، ولا ينظر إلى غلاء الدراهم، ولا إلى رخصها۔