بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

جس کا آخری کلمہ ” لاالہ إلا الله” ہو وہ جنت میں داخل ہوگیا” کا مطلب”

سوال

میرا سوال ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے جس کے آخری الفاظ لاالٰہ الا اللہ ہوں وہ جنت میں جائے گا مرتے ہی بغیر حساب کتاب وہ جنت میں جائے گا قبر کا عذاب نہیں ہوگا یا اس حدیث کی تشریح کیا ہے جواب ارشاد فرمائیے ۔شکریہ

جواب

مذکورہ حدیث کے تحت ملّا علی قاری ؒ نے لکھا ہے کہ اس میں دو احتمال ہیں ایک احتمال یہ ہے کہ عذاب سے پہلے جنت میں داخل ہو گا ،اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ اپنے گناہوں کے بقدر سزا کے بعد جنت میں داخل ہوگا،پہلا احتمال زیادہ ظاہرہے تاکہ فرق ہو جائے ان مؤمنین سے جنکا آخری کلام لاالٰہ الا اللہ نہ ہو،تاھم واضح رہے کہ اس حدیث کی بنیاد پر اعمال صالحہ سے دور اور اعمال سیئہ میں مبتلا رہنا صحیح نہیں ہے۔
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7/15)امداديه
عن معاذ بن جبل قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: ” «من كان آخر كلامه لا إله إلا الله دخل الجنة» “۔
(دخل الجنة) أما قبل العذاب دخولا، أو بعد أن عذب بقدر ذنوبه، والأول الأظهر ليتميز به عن غيره من المؤمنين الذين لم يكن آخر كلامهم هذه الكلمة
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس