بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

جس مسجد کی حدود میں شک یا اختلاف ہوجائے

سوال

ہمارےبازارمیں تقریبًاصدسال قدیمی ایک مسجدہےجس میں ایک کمرہ اورکچھ حصہ صحن اورکچھ حصہ میں وضوخانہ ہےوضوخانہ اورصحن کےساتھ حصہ ہےجہاں امام صاحب طلباءکوپڑھاتےہیں۔مذکورہ بالا تمام مقامات کومسجدکاحصہ سمجھ کرداخلی دروازہ کےساتھ ہی جوتیاں اتاردی جاتی ہیں۔اب مسجدمیں دخول وخروج کیلئےدعاء،اعتکاف اورجماعت ِثانیہ کیلئےہمیں تعین حدودکی ضرورت ہےجبکہ بانیان میں سےکوئی بھی حیات نہیں اورموجودجاتی ہیں ۔ معمرنمازی ومتولیان بھی درست حد سے عدم واقفیت  ظاہر کرتے ہیں ۔ اب موجودہ صورت میں کہاں سےاصل مسجدکی تعین کی جائےاورکس حصہ کوداخل وخارج مسجدکیاجائے؟

جواب

سوال کےجواب سےپہلےیہ بات بطورتمہیدسمجھ لیں کہ جس جگہ کوایک مرتبہ مسجدشرعی بنادیا جائےوہ تاقیامت مسجدہی رہتی ہےاوراُسےتاقیامت مسجدسےنکالناجائزنہیں لیکن  اگرکسی جگہ ایک مرتبہ مسجد بنانےکےبعدتوسیع کی ضرورت ہوتوبعدمیں متولی مسجدتوسیع کرسکتاہے۔اس تمہیدکےبعداب صورت مسئولہ میں ذکرکردہ مسجدکےجس حصےکو بظاہرمسجدکےاندرسمجھاجارہاہےلیکن اس کےمسجدکاحصہ ہونےمیں شبہ ہےتو موجودہ متولی مسجداوراہل محلہ مشورہ سےاس کے بارے میں طے کرلیں کہ یہ مسجد میں شامل ہے اس سے  آپ کی پریشانی دورہوجائےگی،اس لئےکہ اگریہ پہلےسےمسجدمیں شامل ہےتودوبارہ نیت کرلینےمیں کوئی حرج نہیں اور اگرمسجدمیں شامل نہیں تواب نیت کرنےسےیہ جگہ مسجدمیں داخل ہوجائےگی۔واضح رہےکہ جن جگہوں کے بارےمیں شبہ ہےان میں سےکسی حصےکواحتیاطاً مسجدسےخارج کرنےکافیصلہ نہ کیاجائے۔
رد المحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (6/580) رشیدیة کوئتة
لو جعل الطريق مسجدا يجوز ، لا جعل المسجد طريقا لأنه لا تجوز الصلاة في الطريق فجاز جعله مسجدا، ولا يجوز المرور في المسجد فلم يجز جعله طريقا۔
الفتاوى الهندية (2/457) رشیدیة کوئتة
إن أرادوا أن يجعلوا شيئا من المسجد طريقا للمسلمين فقد قيل: ليس لهم ذلك وأنه صحيح، كذا في المحيط۔
الفتاوی التاتارخانیة،فرید الدین(م:786هـ) (8/157) فاروقیه کوئتة
(مسئله11500:) وفی فتاویٰ أبی اللیث: سئل الفقیه أبو جعفر عن وقف بجنب المسجد والوقف علی المسجد فأرادوا أن یزیدوا فی المسجد من ذلك الوقف قال : یجوز ینبغی أن یفعلوا ذلك بإذن الحاکم… إذا اجتمع أکثرهم  وأفضلهم علی ذلك
فلیس للأقل منعهم عنه۔
 الهداية، أبو الحسن برهان الدين الفرغاني المرغيناني(م: 593هـ) (3/ 21)دار احياء التراث
قال: “ومن اتخذ أرضه مسجدا لم يكن له أن يرجع فيه ولا يبيعه ولا يورث عنه” لأنه تجرد عن حق العباد وصار خالصا لله، وهذا لأن الأشياء كلها لله تعالى، وإذا أسقط العبد ما ثبت له من الحق رجع إلى أصله فانقطع تصرفه عنه كما في الإعتاق۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس