بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

“تین مرتبہ یہ کہنا”آج میری طرف سےپہلی طلاق

سوال

میرےشوہرنےمجھےطلاق دیدی ہے،تقریباچھ (6)سال ہوگئےہیں کہ ہم علیحدہ ہوئےہیں ۔وہ بہت نشہ کرتےہیں،تقریباہرنشہ آورچیزاستعمال کرتےہیں،پانی کی جگہ شراب استعمال کرتےتھے۔اب وہ طلاق دینےپرپچھتارہےہیں اورکافی بارواپس آنےکوکہہ چکےہیں۔طلاق انہوں نےنشےکی حالت میں دی تھی ،میری بہن کوبھی مارا اورمجھےمخاطب کرتےہوئےکہاکہ آج میں نےاسےپہلی طلاق دیدی ،آج میں نےاسےپہلی طلاق دی،آج اسےمیری طرف سے پہلی طلاق، یعنی پہلی ،پہلی کہہ کرتین باریہی جملےدہرائےتھےتواس صورت میں کتنی طلاقیں گنی جائیں گی؟
طلاق دینےکےبعدسےاب تک ہم ایک دوسرےسےملےنہیں توکیارجوع کیاجاسکتاہے؟شادی کےشروع میں ہربات منوانےکےلئےطلاق کی دھمکیاں دیتےتھےاورکہاکہ اپنےگھروالوں کوچھوڑدو،نہیں تومیں تمہیں فارغ کردوں گا،میں نےاپنےگھروالےچھوڑبھی دیےتھےاورچارسال تک اپنےگھروالوں سےنہیں ملی تھی شادی کےدن سےلےکرطلاق ہونےتک ساس اورنندوں نےبھی تنگ کیا۔میرےدوچھوٹےبچےہیں۔ بیٹا پونے5سال کااوربیٹی 2سال کی ۔اب میں کیاکروں ؟

جواب

واضح رہے کہ حرام نشے کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ ً آپ کے شوہر نےنشے کی حالت میں آپ کو تین مرتبہ یہ الفاظ ” آج میں نے اسے پہلی طلاق دی” کہے ہیں ،جس میں چونکہ لفظ ’’پہلی‘‘صریح اور منطوق ہے ۔اورمذکورہ شخص کی نیت دوسرے دو جملوں سےمزید طلاق دینے کی معلوم نہیں ہو تی، بلکہ پہلے کی تاکیدیا خبربنا نا مقصودہے ۔اس لئے ایسی صورت میں شرعا ً آپ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے ۔جس کا حکم یہ ہے کہ عدت کے دوران شوہر کو(قولاً یا عملاً ) رجوع کر نے کا حق حاصل ہے اور عدت گذرنےکے بعد آپ دونوں کا نکاح باہمی رضامندی کے ساتھ نئے مہر پر نئے ایجاب و قبول کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں ہو سکتا ہے ۔جس کے بعد شوہر کو صرف دو طلاقوں کا حق باقی ہوگا ۔یعنی دو طلاقیں بھی دیدیں تو بیوی پرطلاق مغلظہ واقع ہو کر حرام ہو جائے گی ۔ اس لئے آ ئندہ طلاق کے معاملے میں اس پر انتہائی احتیاط لازم ہے ۔
البتہ کسی اور سے نکاح کے حلال ہو نے کے لئے شرعا ً عدت گذارنی ضروری ہو گی۔اور اس کے لئے قانونی کاروائی بھی مکمل کر لینی چاہئے ۔یعنی اگرطلاق واقع ہونےکےبعدسےآپ کی تین ماہواریاں مکمل ہوگئی ہیں تودوسری جگہ نکاح ہوسکتاہے۔
تاہم واضح رہے کہ حرام نشہ شرعاً وقانونا ً قابلِ سزا جرم ہے، اللہ کی نافرمانی اور قابل ِمواخذہ گناہ بھی ہے ۔ اس لئے آپ کے سابق شوہر پراس سے بچنا بہر صورت لازم ہے ۔نیز دوبارہ نکاح ہو نے کی صورت میں اس کو چاہئے کہ اپنے آپ کو انسانیت ،اخلاقیات اور معاشرتی حقوق کے دھارے میں لاتے ہو ئے طلاق کی دھمکیوں اور بیوی کے جائز حقوق کو پامال کر نے سے مکمل گریز کر ے ؛جو کہ باعثِ گنا ہ ہے ۔
  تحفة الفقهاء،محمدبن أحمد،(م: 540هـ)(2/195)العلمية
طلاق السكران واقع سواء سكر بالخمر أو بالنبيذ۔
 كتاب التلخيص،عبدالملك بن عبد الله الجويني(م: 478هـ)(2/ 123)العلمية
ولكنه يقول إنماالمنطوق به ما أريدباللفظ، وإنما اريدباللفظ القدرالذي لم يعارضه فيه قياس۔
  شرح التلويح،سعدالدين مسعودبن عمرالتفتازاني(م: 793هـ)(1/ 66)مكتبة صبيح
وإلا يلزم ترك العمل بهذا البيان الذي هو في حكم المنطوق وهو الذي عبر عنه فخر الإسلام -رحمه الله- بترك العمل بالخاص۔
المبسوط لمحمدبن أحمد السرخسي(م: 483هـ)(16/ 153)بيروت
والمفهوم لا يقابل المنطوق۔
الفتاوى الهندية،لجنة العلماء برئاسة نظام الدين البلخي(1/ 355)دارالفکر
ولو قال لها أنت طالق طالق أو أنت طالق أنت طالق أو قال قد طلقتك قد طلقتك أو قال أنت طالق وقد طلقتك تقع ثنتان إذا كانت المرأة مدخولا بها ولو قال عنيت بالثاني الإخبار عن الأول لم يصدق في القضاء ويصدق فيما بينه وبين الله تعالى۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس