مجھے مسئلہ درپیش یہ ہے کہ میرے بھانجھا نے اپنی زوجہ کو تحریری طور پر طلاق ثلثہ فریقین کے درمیان دے چکاہے ۔ لیکن پھر بھی اپنی زوجہ سے علیحدگی اختیار نہیں کرتا دونوں نے زوجین کے تعلق کو قائم رکھا ہواہے ۔ آیا شریعت ان کو کیا حکم دیتی ہے اور اہل خانہ کو کیا کرنا چاہیےجس کی شریعت اجازت دیتی ہے۔
نمبر۱۔ طلاق ثلاثہ مابین فریقین نامہ
نمبر ۴۔ سرٹیفکیٹ طلاق نامہ یونین کونسل ہمراہ لف ہیں۔
سوال کے ساتھ منسلک کردہ تفصیلات اگر حقیقت پر مبنی ہیں تو اس صورت میں تین طلاقیں واقع ہوکر میاں بیوی کے درمیان حرمت ِمغلظہ ثابت ہوگئی ہے۔لہذا وہ دونوں ایک دوسرے پر حرام ہوچکے ہیں اب ان کے لیے ایک ساتھ رہناجائز نہیں ۔تاحال مذکورہ مردو عورت اکٹھے رہنے کی وجہ سے حرام کاری میں مبتلا ہیں ۔پس ان پر لازم ہے کہ فی الفور جدا ہوجائیں اور اللہ کے حضور توبہ واستغفار کریں۔
ورثاء واقرباء اور انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ کوئی بھی جائز قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے ان دونوں میں جدائی کروائیں۔اس کے لیے اگر عارضی طور پر کچھ عرصے کےلیے قطع تعلقی کرنی پڑے تو اس کی بھی اجازت ہے۔
قال اللہ تعالی (البقرة: 90)
{ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}
صحيح البخاري (2/792)محمودیة
حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك
مرقاة المفاتيح (9/242)امدادیة
قال الخطابي: رخص للمسلم أن يغضب على أخيه ثلاث ليال لقلته، ولا يجوز فوقها إلا إذا كان الهجران في حق من حقوق الله تعالى، فيجوز فوق ذلك
أحكام القرآن للجصاص (1/ 527) قدیمی
يدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنها۔۔۔ وفيها الدلالة عليه من وجه آخر وهوقوله تعالى فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظورقبض یتصدق الذی قبض الجاریۃ بالربح ویطیب الربح للذی قبض الدراھم
الفتاوى الهندية (1/ 414)
وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو