ایک شخص کا اپنی بیوی سےجھگڑاہوا، اس نےاپنی بیوی کودومرتبہ طلاق دی، اس کی بیوی نےاس کےمنہ پر ہاتھ رکھ کرروک لیالیکن پانچ سےدس منٹ کےوقفہ کےبعد اس نےدوبارہ سےدومرتبہ لفظ ِطلاق استعمال کیااسی جگہ پربیٹھےہوئے توطلاق واقع ہوئی یانہیں اورکیا علیحدہ علیحدہ کہنےسےتین طلاقیں ہوتی ہیں یاپھرایک بارتین مرتبہ طلاق کہنےسےہوتی ہےاوروہ طلاق کےذریعہ اپنی بیوی کوڈراناچاہتاتھا ۔شریعت میں اس کاکیاحکم ہے؟
تین طلاقیں واقع ہونے کے لئے ایک ساتھ تین طلاقیں دیناضروری نہیں، بلکہ الگ الگ تین طلاقیں دینے سے بھی تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اورڈرانے دھمکانے کی نیت سے طلاق دینےسےبھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ اسی طرح علم کے بغیربھی طلاق واقع ہوجاتی ہے؛لہٰذاصورتِ مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے اورنکاح ختم ہوگیاہے۔ اب ان میاں بیوی کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا جائزنہیں اورنہ ہی یہ دونوں آپس میں رجوع کرسکتے ہیں۔ عدت گزرنے کے بعد اپنے اہلِ خانہ کے مشورے سے عورت دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے۔ پھر اگر ہمبستری کےبعددوسرےشوہرکاانتقال ہوجائےیاوہ کسی وجہ سے طلاق دیدے تو عدت گزارنے کے بعدباہمی رضامندی سےنئے مہركے عوض پہلےشوہرکےساتھ دوبارہ نکاح کرسکتی ہے۔
قال الله سبحانه وتعاليٰ:[ البقرة:٢٣٠]
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}
أحكام القرآن ، أبو بكر الرازي الجصاص(م: 370هـ)(1 / 468 ) دار الكتب العلمية
قوله تعالى :{فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور۔
الصحيح للإمام محمد بن إسماعيل البخاري (256ھـ)(7/43) دار طوق النجاة
وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: ’’لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك‘‘۔
عمدة القاري شرح صحيح البخاري ،بدر الدين العينى (م: 855هـ) ( 20 / 234) دار العربية
قوله تعالى: {الطلاق مرتان} معناه: مرة بعد مرة۔
السنن لإبي داودسليمان بن الأشعث (م: 275هـ) (2/259 ) المكتبة العصرية
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة “۔
الدر المختار،للعلامة علاء الدين الحصكفي (م: 1088هـ)(3 / 235 ) سعيد
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق۔
رد المحتار ،للعلامة ابن عابدين الشامي(م: 1252هـ) (3 / 250 ) سعيد
وأما الهازل فيقع طلاقه قضاء وديانة لأنه قصد السبب عالما بأنه سبب فرتب الشرع حكمه عليه أراده أو لم يرده۔
في التحرير وشرحه: الهزل لغة اللعب. واصطلاحا: أن لا يراد باللفظ ودلالته المعنى الحقيقي ولا المجازي بل أريد به غيرهما، وهو ما لا تصح إرادته منه. وضده الجد، وهو أن يراد باللفظ أحدهما۔