صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت ِمغلظہ ثابت ہوگئی ہے ،اور دونوں کے درمیان نکاح ختم ہوگیا ہے ۔اب مو جو دہ صورت حال میں قرآن وسنت کی روسے دونوں ایک دوسرے پرحرام ہیں،نہ تو آپس میں رجوع کرسکتے ہیں اور نہ ہی نیا نکاح کر کے اکٹھے رہ سکتے ہیں ،البتہ اگر خاتون عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے اور ہمبستری بھی ہو جائے پھر دوسرے شوہر کا انتقال ہو جائے یا وہ کسی وجہ سے طلاق دےدے تو عدت گزرنے کے بعد اس خاتون کا نکاح باہمی رضامندی سے پہلے شوہر سےہوسکتا ہے ۔ واضح رہے کہ دوسری جگہ مستقل رہنے کی نیت سے نکاح کرنا چاہیے حلالہ کی شرط پر نکاح کرانا جائز نہیں ہے۔
قال الله تبارک وتعالی
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ } [البقرة: 230]
أحكام القرآن،أبو بكر الرازي الجصاص(م:370ھ)(2/8)دارإحياء التراث العربي
قوله تعالى{ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ }فحكم بتحريمهاعليه بالثالثة بعدالاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهمافي طهر واحدأوفي أطهارفوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أوغير مسنون ومباح أو محظور۔
الصحيح لمحمد بن إسماعيل البخاري(م:256ھ)(7/ 43)دارطوق النجاة
5264 – وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك۔
الفتاوى الهندية نظام الدين البلخي(1/473)دارالفكر
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحاصحيحاويدخل بهاثم يطلقهاأويموت عنها۔