بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تین طلاقوں کا مسئلہ

سوال

میری بیوی انتہائی بد زبان نافرمان ہے جو کہ ہمیشہ جھگڑتی رہتی تھی ، جس کی وجہ سےہمارے مابین نباہ مشکل ہو گیا تھا اس کے اس رویے کی وجہ سے میں اسے طلاق دے کر اپنی زوجیت سے آزاد کرتاہوں، میں اسے طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں،نیز میں اس کے کسی بھی قول وفعل کا اب ذمہ دار نہیں ہوں ، اور طلاق نامہ گواہان کے سامنے لکھ کر دیا تاکہ بعد میں ضرورت کے وقت کام آجائے ۔اب اس کاکیاحکم ہے؟

جواب

صورت ِمسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہو کر نکاح ختم ہوگیا اور حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،لہٰذا اب رجوع نہیں ہوسکتااورآپس میں نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔لہٰذا آپس میں میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں ہے بلکہ حرام اور سخت گناہ ہےاوردونوں پر واجب ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں۔
واضح رہےکہ قرآن و سنت کی روشنی میں اکٹھی تین طلاقیں دینا اگرچہ شرعاًناپسندیدہ اور گناہ والاعمل ہےاورحکومت کو اس کے متعلق تعزیری قانون بنانا چاہیے، تاہم قرآن و حدیث اور صحابہ کرام کے فیصلوں کی روشنی میں تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، نیزامام اعظم امام ابوحنیفہ، امام مالک،امام شافعی،امام احمدبن حنبل، امام بخاری، امام مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ الغرض جمہور فقہا ء ؒ اورمحدثینؒ کا یہی مسلک ہےاورسعودی حکومت کے مقرر کردہ علماء بورڈ کا بھی یہی مسلک ہے۔
قال الله تعالي:[البقرة : 230]
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ}
التفسير لمحمد بن أحمدالقرطبي(م:671ھ)(3/147)دارالكتب المصرية
المراد بقوله تعالى:{فَإِنْ طَلَّقَهَا} الطلقة الثالثة { فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ}.وهذا مجمع عليه لا خلاف فيه۔
صحيح البخاري،محمد بن إسماعيل(م:256ھ)(7/56)دارطوق النجاة
عن عائشة، رضي الله عنها: أن رفاعة القرظي تزوج امرأة ثم طلقها، فتزوجت آخر، فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت له أنه لا يأتيها، وأنه ليس معه إلا مثل هدبة، فقال: «لا، حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك»۔
الفتاوى الهندية،نظام الدين البلخي(1/355)سعيد
كذا في السراج الوهاج رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق… طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق۔
النُتف في الفتاوى، أبو الحسن علي بن الحسين(م:461ھ)(1/340)دارالفرقان
 احدهما ان يقول انت طالق طالق طالق والثاني ان يقول انت طالق وطالق وطالق والثالث ان يقول انت طالق انت طالق انت طالق والرابع ان يقول انت طالق ثم طالق ثم طالق فأن كانت المرأة مدخولا بها في هذه الوجوه طلقت ثلاثا وان لم يكن مدخولا بها طلقت واحدة فان أراد بالآخرين تكرار الطلاق طلقت واحدة كانت المرأة مدخولا بها أم لم تكن. ۔
 مجلة البحوث الإسلامية، الرئاسة العامة لإدارات البحوث العلمية والإفتاء والدعوة والإرشاد (3 / 165)
 وبعد دراسة المسألة وتداول الرأي واستعراض الأقوال التي قيلت فيها ومناقشة ما على كل قول من إيراد توصل المجلس بأكثريته إلى اختيار القول بوقوع الطلاق الثلاث بلفظ واحد ثلاثا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس