میری بیوی انتہائی بد زبان نافرمان ہے جو کہ ہمیشہ جھگڑتی رہتی تھی ، جس کی وجہ سےہمارے مابین نباہ مشکل ہو گیا تھا اس کے اس رویے کی وجہ سے میں اسے طلاق دے کر اپنی زوجیت سے آزاد کرتاہوں، میں اسے طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں،نیز میں اس کے کسی بھی قول وفعل کا اب ذمہ دار نہیں ہوں ، اور طلاق نامہ گواہان کے سامنے لکھ کر دیا تاکہ بعد میں ضرورت کے وقت کام آجائے ۔اب اس کاکیاحکم ہے؟
واضح رہےکہ قرآن و سنت کی روشنی میں اکٹھی تین طلاقیں دینا اگرچہ شرعاًناپسندیدہ اور گناہ والاعمل ہےاورحکومت کو اس کے متعلق تعزیری قانون بنانا چاہیے، تاہم قرآن و حدیث اور صحابہ کرام کے فیصلوں کی روشنی میں تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، نیزامام اعظم امام ابوحنیفہ، امام مالک،امام شافعی،امام احمدبن حنبل، امام بخاری، امام مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ الغرض جمہور فقہا ء ؒ اورمحدثینؒ کا یہی مسلک ہےاورسعودی حکومت کے مقرر کردہ علماء بورڈ کا بھی یہی مسلک ہے۔