شادی کے تین ماہ بعد شوہر نے مجھے طلاق دی اور پھر رجوع کرلیا ۔ ڈیڑھ سال کے بعد پھر ایک طلاق دی اور پھر رجوع کرلیا ،ان دونوں طلاقوں کا کوئی گواہ نہیں ہے اس کے بعد کچھ عرصہ پہلےمیرے بھائی کے سامنے مجھے کہا میں اس کو طلاق دیتا ہوں ۔ایک ماہ قبل بھی گھر کے ملازم،اس کی بیوی اور سابقہ شوہر سے میرے چودہ سالہ بیٹے کے سامنے کہا میں اس کو طلاق دیتا ہوں ۔لیکن اب منکر ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ میں نے کوئی طلاق نہیں دی۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعتاًدرست ہےتو اس صورت میں آپ پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو گئی ۔آپ ایک دوسرے پر حرام ہو چکے ہیں اس لیے آپ دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں ۔مذکورہ صورت میں شوہر اگر چہ طلاق کا منکر ہے لیکن آپ نے جب خود اپنے کانوں سے تین طلاق کے الفاظ سنے ہیں تو آپ کے لیے اس کے ساتھ رہنا ہر گز جائز نہیں ۔اگر وہ آپ کو اپنے سا تھ رہنے پر مجبور کرےتو آپ مہر کی معافی یا کسی اور جائز طریقے سے اس سے طلاق کا اقرار کرواکر خلاصی حاصل کرلیں۔اگر اس پر بھی آمادہ نہ ہو تو عدالت کےذریعے خلع حاصل کرکے آگے شادی کر سکتی ہیں ۔بشرطیکہ عدت گزر چکی ہو ۔واضح رہے کہ شوہر کی رضامندی کے بغیر شرعاً خلع صحیح نہیں ہو تا البتہ مذکورہ صورت میں چونکہ پہلے ہی طلاق واقع ہو چکی ہے اس لیے قا نونی تحفظ کی خاطر عدالتی خلع کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کی گنجائش ہے۔