بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تین طلاقوں کا حکم جبکہ شوہر طلاق کا منکر ہو

سوال

شادی کے تین ماہ بعد شوہر نے مجھے طلاق دی اور پھر رجوع کرلیا ۔ ڈیڑھ سال کے بعد پھر ایک طلاق دی اور پھر رجوع کرلیا ،ان دونوں طلاقوں کا کوئی گواہ نہیں ہے اس کے بعد کچھ عرصہ پہلےمیرے بھائی کے سامنے مجھے کہا میں اس کو طلاق دیتا ہوں ۔ایک ماہ قبل بھی گھر کے ملازم،اس کی بیوی اور سابقہ شوہر سے میرے چودہ سالہ بیٹے کے سامنے کہا میں اس کو طلاق دیتا ہوں ۔لیکن اب منکر ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ میں نے کوئی طلاق نہیں دی۔

جواب

سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعتاًدرست ہےتو اس صورت میں آپ پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو گئی ۔آپ ایک دوسرے پر حرام ہو چکے ہیں اس لیے آپ دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں ۔مذکورہ صورت میں شوہر اگر چہ طلاق کا منکر ہے لیکن آپ نے جب خود اپنے کانوں سے تین طلاق کے الفاظ سنے ہیں تو آپ کے لیے اس کے ساتھ رہنا ہر گز جائز نہیں ۔اگر وہ آپ کو اپنے سا تھ رہنے پر مجبور کرےتو آپ مہر کی معافی یا کسی اور جائز طریقے سے اس سے طلاق کا اقرار کرواکر خلاصی حاصل کرلیں۔اگر اس پر بھی آمادہ نہ ہو تو عدالت کےذریعے خلع حاصل کرکے آگے شادی کر سکتی ہیں ۔بشرطیکہ عدت گزر چکی ہو ۔واضح رہے کہ شوہر کی رضامندی کے بغیر شرعاً خلع صحیح نہیں ہو تا البتہ مذکورہ صورت میں چونکہ پہلے ہی طلاق واقع ہو چکی ہے اس لیے قا نونی تحفظ کی خاطر عدالتی خلع کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کی گنجائش ہے۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252ھ)(3/305)سعيد
والتأكيد خلاف الظاهر،وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه۔
  فتح القدير،العلامة ابن الہمام(م:861ہـ)(4/73)دارالفکر
وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لہا أن تمكنہ من نفسہا إذا علمت منہ ما ظاہرہ خلاف مدعاہ۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس