میری شادی 2016۔12۔17کو ہوئی، میری بیوی ایک سکول ٹیچر تھی، شادی کے چار ماہ بعد جب ہم نے اس کو نوکری چھوڑنے کا کہا تو وہ ناراض ہو کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی اور دوماہ بعد انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ میں ان کے گھر گھر داماد بن کر رہوں تو ٹھیک ہے ورنہ مجھے طلاق دے دو ۔
میں نےاور میرے والد صاحب نے ان کو منانے کی کو شش کی اور لڑکی کو الگ پورشن میں رکھنے کی پیش کش بھی کی، لیکن وہ کسی صورت نہ مانے، اس کے بعد لڑکی کا والد جہیز کا سامان اٹھاکر لےگیا، لڑکی کے گھروالوں کی طرف سےطلاق پرزیادہ زورتھاجبکہ ہم چاہتےتھےکہ کوئی بیچ کاراستہ نکل جائے،اورطلاق کی نوبت نہ آئے۔
مجھےطلاق کاطریقہ معلوم نہیں تھا،میں نےاپنی یونین کونسل جاکرطلاق کاطریقہ پوچھا،انہوں نےمجھےبتایاکہ 3ماہ کاٹائم لگتاہے،ایک اسٹام پیپربنوالوں اورلڑکی والوں کی یونین کونسل میں دےدو، وہ دونوں فریقوں کوبلائیں گےاورملانےکی کوشش کریں گے،اگرراضی نہ ہوئےتوپھرطلاق کی کاروائی کریں گے۔
میرےوالدصاحب نےاپنےجاننےوالےسےطلاق کاپیپربنوایا،اس نےکہاکہ طلاق میں 6ماہ لگےگا،آپ اسٹام پیپرپردستخط کرکےلڑکی والوں کی یونین کونسل میں جمع کرادو، اگردونوں کےدرمیان کوئی رابطہ نہ ہوا تو وہ ایک ماہ بعدلڑکی کوپہلی طلاق کانوٹس بھیجےگا اوردوماہ بعددوسری طلاق کااور3ماہ بعدآخری طلاق نامہ بھیجےگاپھرطلاق ہوجائے گی۔
یونین کونسل اوراس آدمی کی بات سےمجھےیہ معلوم ہواکہ ایک وقت میں ایک ہی طلاق ہوگی،لہذا میں نے اسٹام پیپرپردستخط کردیے،اس وقت نہ تومیرا طلاق کاارادہ تھااورنہ ہی میں نےطلاق کےالفاظ زبان سےکہے اوریہ بات ذہن میں تھی کہ یونین کونسل والےہمیں ملانےکی کوشش کریں گے۔اوریہ بات واضح کردوں کہ اس اسٹام پیپرپر لفظ طلاق دیتاہوں 3بارلکھاہواتھا۔اب ہمارےلیےکیاحکم ہے؟
صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہو کر نکاح ختم ہوگیا اور حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، لہٰذاب رجوع نہیں ہو سکتا اور آپس میں نکاح بھی نہیں ہو سکتا ۔لہٰذا آپس میں میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہنا ہر گز جائز نہیں ہے بلکہ حرام اور سخت گناہ ہے ۔
واضح رہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں اکٹھی تین طلاقیں دینا اگرچہ شرعاً نا پسندیدہ اور گناہ والا عمل ہے اور حکومت کو اس کے متعلق تعزیری قانون بنانا چاہیے ،تاہم قرآن وحدیث اور صحابہ کرام کے فیصلوں کی روشنی میں تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں ،نیز امام اعظم ابو حنیفہ ،امام مالک ،امام شافعی ،امام احمد بن حنبل ، اما م بخاری ۔امام مسلم الغرض جمہور فقہاءاور محدثین رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے اور سعودی حکومت کے مقررکردہ علماء بورڈ کا بھی یہی مسلک ہے۔
کمافی قوله تعالی(البقرة:230)
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَّتَرَاجَعَآ إِنْ ظَنَّآ أَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَ اللّهِ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ
تفسير القرطبي،شمس الدين القرطبي(م:671ھ)(3/147)دارالكتب المصرية
المراد بقوله تعالى:” فَإِنْ طَلَّقَهَا ” الطلقة الثالثة فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ “. وهذا مجمع عليه لا خلاف فيه۔
الصحيح لامام محمد بن إسماعيل البخاري(م:256ھ)(7/56)دارطوق النجاة
عن عائشة رضي الله عنها: أن رفاعة القرظي تزوج امرأة ثم طلقها، فتزوجت آخر، فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت له أنه لا يأتيها، وأنه ليس معه إلا مثل هدبة، فقال: «لا، حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك»۔
الصحيح لامام مسلم بن الحجاج(م:261ھ)(2/1056)دارإحياءالتراث العربي
أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أخبرته، أن رفاعة القرظي طلق امرأته، فبت طلاقها، فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، إنها كانت تحت رفاعة، فطلقها آخر ثلاث تطليقات، فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير، وإنه والله، ما معه إلا مثل الهدبة، وأخذت بهدبة من جلبابها، قال: فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم ضاحكا، فقال: «لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة، لا، حتى يذوق عسيلتك، وتذوقي عسيلته»، وأبو بكر الصديق جالس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، وخالد بن سعيد بن العاص جالس بباب الحجرة، لم يؤذن له، قال: فطفق خالد ينادي أبا بكر: ألا تزجر هذه عما تجهر به عند رسول الله صلى الله عليه وسلم۔
الفتاوى الهندية،نظام الدين البلخي(1/ 355)دارالفكر
كذا في السراج الوهاج، رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق ۔۔۔ طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان، متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق۔
النتف في الفتاوى،أبو الحسن السُّغْدي(م:461ھ)(1/339)دارالفرقان
احدهما ان يقول انت طالق طالق طالق والثاني ان يقول انت طالق وطالق وطالق، والثالث ان يقول انت طالق انت طالق انت طالق، والرابع ان يقول انت طالق ثم طالق ثم طالق فأن كانت المرأة مدخولا بها في هذه الوجوه طلقت ثلاثا وان لم يكن مدخولا بها طلقت واحدة فان أراد بالآخرين تكرار الطلاق طلقت واحدة كانت المرأة مدخولا بها أم لم تكن۔
مجلة البحوث الاسلامیة(3/165)
وبعد دراسة المسئلة وتداول الرای واستعراض الاقوال التی قیلت فیها ومناقشة ما علی کل قول من ایراد توصل المجلس باکثریته الی اختیار القول بوقوع الطلاق الثلاث بلفظ واحد ثلاثا۔