تقسیمِ میراث کانقشہ
| بیوہ | بیٹے(3) | بیٹیاں(3) | |
| ثمن | عصبہ | ||
| 1×9=9 | 7×9=63 | ||
| 1 | ہربیٹے کو 14 | ہر بیٹی کو7 | |
مذکورہ صورت میں بیٹوں یا بیٹیوں میں سے جو والد کے انتقال کے بعد فوت ہوئے ان کا حصہ ان کے ورثاء کی طرف منتقل ہوجائےگا، چنانچہ فوت شدہ بیٹی کو اپنے والد کی طرف سے وراثت میں ملے ہوئے 7حصے اور ان کے اپنے مال میں وراثت اس طریقہ سے تقسیم ہوگی کہ کل مال کے 12 حصے کرکے تین حصے شوہر کو ، بیٹی کو ایک حصہ اور ہر بیٹے کو دو، دو حصے ملیں گے۔
تقسیمِ میراث کانقشہ
مسئلہ:12
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 2 | 1 |
اسی طرح مرحوم بیٹے کے اگر کوئی اولاد نہیں تو جو جو بھائی بہنیں اس کے انتقال کے وقت زندہ تھے ان کو اپنے والد کی طرف سے وراثت میں ملے ہوئے 14 حصے اوران کے اپنے مال میں سے (حقوق متقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کے بعد) ہر بھائی کو دو، دو حصے اور ہر بہن کو ایک، ایک حصہ ملے گا۔
مسئلہ: 4×2=8 مضروب 2
| بیوہ | ماں باپ شریک بھائی(2) | ماں باپ شریک بہنیں (2) | |
| ربع | عصبہ | ||
| 1×2=2 | 3×2=6 | ||
| 2 | ہر بھائی کو 2 حصے | ہر بہن کو 1 حصہ | |