بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تین بیٹے ، تین بیٹیاں اور بیوہ کے درمیان تقسیم میراث

سوال

میرے بہنوئی ہیں ان کے والد صاحب کا انتقال بہت پہلے ہوگیا تھا ان کے ۳ بیٹے اور ۳ بیٹیاں اور بیوہ ہے ان کی وراثت میں ایک ڈھائی مرلہ کا پلاٹ اور اس پر کمرہ بنا ہوا تھا وراثت تقسیم نہ ہوئی ان کے بیٹوں نے مل کر پہلے پہلی منزل تیار کروائی اور جب تیسرے کی شادی ہوئی تو تیسری منزل تیار کروائی۔
وراثت تقسیم ہونے سے پہلے ایک بھائی کا انتقال ہوگیا ہے جبکہ اس کے ورثاء میں اس کی ایک بیوہ ہے اولاد نہیں ہے۔ اسی طرح ۳ بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کا انتقال ہوگیا ہے جبکہ ان کے پانچ بچے ، ۴ بیٹے اور ایک بیٹی زندہ ہے۔ ان کے بچوں کو حصہ ملے گا یا نہیں ؟ اور کتنا ملے گا وہ بھی بتادیں۔
ان مسائل کے بارے میں پوچھنا تھا کہ اس وقت ان کے والد صاحب کی جائیداد تقسیم نہیں ہوئی تھی اب کرنا چاہ رہے ہیں آیا اس پلاٹ اور کمرہ کی قیمت کا اس وقت اعتبار ہوگا یا موجودہ قیمت کا اعتبار ہوگا؟
جو بھائی فوت ہوچکے ہیں ان کو حصہ ملے گا یا نہیں جبکہ اس کی ایک بیوہ ہے۔ اسی طرح ان کی وراثت تقسیم نہیں ہوئی ہے اس کا بھی طریقہ بتادیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں والد صاحب کے انتقال کے وقت جتنے ورثاء (تین بیٹے، تین بیٹیاں اور ایک بیوہ) موجود تھے وہ مرحوم کے ترکہ میں(حقوق متقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کے بعد) اپنے اپنے حصے کے بقدر مالک ہوگئے تھے۔ اگر اس کے بعد بھائیوں نے مل کر مذکورہ پلاٹ پر مزید جو منزلیں تعمیر کی ہیں، وہ صرف بھائیوں کا حصہ ہے اور وہ والد کا ترکہ شمار نہیں ہوگا۔ لہذا مذکورہ پلاٹ میں بنے ہوئے کمرے کے ساتھ اس کی موجودہ قیمت لگائی جائے، اس قیمت میں والد کے انتقال کے وقت زندہ ورثاء درج ذیل حصوں کے مطابق وارث ہوں گے، پلاٹ کی قیمت اور ترکہ میں موجود سامان کے کل 72 حصے کر لیں ، اس میں سے 9حصے بیوہ کو، 14،14 ہر بھائی کو اور 7،7 ہر بہن کو ملےگا۔

تقسیمِ میراث کانقشہ

                      مسئلہ:8×9=72                                      مضـ9

     بیوہ بیٹے(3) بیٹیاں(3)
ثمن عصبہ
1×9=9 7×9=63
1 ہربیٹے کو 14 ہر بیٹی کو7

مذکورہ صورت میں بیٹوں یا بیٹیوں میں سے جو والد کے انتقال کے بعد فوت ہوئے ان کا حصہ ان کے ورثاء کی طرف منتقل ہوجائےگا، چنانچہ  فوت شدہ بیٹی کو اپنے والد کی طرف سے وراثت میں ملے ہوئے 7حصے اور ان کے اپنے مال میں وراثت اس طریقہ سے تقسیم ہوگی کہ کل مال کے 12 حصے کرکے تین حصے شوہر کو ، بیٹی کو ایک حصہ اور ہر بیٹے کو دو، دو حصے ملیں گے۔

تقسیمِ میراث کانقشہ

                      مسئلہ:12

بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی
2 2 2 2 1

اسی طرح مرحوم بیٹے کے اگر کوئی اولاد نہیں تو جو جو بھائی بہنیں اس کے انتقال کے وقت زندہ تھے ان کو  اپنے والد کی طرف سے وراثت میں ملے ہوئے 14 حصے اوران کے اپنے مال میں سے  (حقوق متقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کے بعد)  ہر بھائی کو دو، دو حصے اور ہر بہن کو ایک، ایک حصہ ملے گا۔

مسئلہ: 4×2=8                                               مضروب 2

بیوہ ماں باپ شریک بھائی(2) ماں باپ شریک بہنیں (2)
ربع عصبہ
1×2=2 3×2=6
2 ہر بھائی کو 2 حصے ہر بہن کو 1 حصہ
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس