حدیث میں آتا ہے کہ تین آدمی ایسے ہیں جو دعا کرتےہیں لیکن ان کی دعا قبول نہیں کی جاتی: وہ شخص جس کے پاس بد خلق بیوی ہواوروہ اس کو طلاق نہ دےدوسرا وہ شخص جو یتیم کے بالغ ہونے سے پہلے اس کا مال اس کے حوالے کردے۔ تیسرا وہ شخص جس کسی کو اپنا مال قرض دے اور اس پر گواہ نہ بنائے۔کیا مذکورہ حدیث صحیح ہے ؟ اس کی تخریج کردیں
سوال میں ذکر کردہ مفہوم کی حدیث امام حاکم نے مستدرک میں نقل کی ہے، البتہ اس میں یتیم کی بجاءے سفیہ (بےوقوف ) کا لفظ ہے کہ جو شخص بے وقوف کو اس کا مال دےدے۔۔۔الخ
نیز یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے، البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ ان تین آدمیوں کی کوئی دعا قبول نہیں ہوگی، بلکہ اس کا درست مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کی بیوی بد مزاج ہو تو اسے چاہیے کہ صبر کرے یا طلاق دے کر جدا کرے بددعانہ کرے، اس کی بد دعا عورت کے حق میں قبول نہ ہوگی۔
دوسراشخص جس نے کسی کو مال دیا اور گواہ نہ بنایا جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حکم دیا ہے ۔اسے بددعا نہ دے ، اس قرض خواہ کی بد دعا مقروض کے حق میں قبول نہ ہوگی کیونکہ اس نے خود کوتاہی کی اور مال دوسرے شخص کو بطور قرض دیتے وقت گواہ نہیں بنایا۔
تیسرا وہ شخص جس نے بےوقوف کو مال دیا ،تواسے چاہیے تھا کہ اسے مال نہ دیتا۔اب اس کے خلاف بد دعا نہ کرے اگر بددعا کرے گا تو قبول نہیں ہوگی۔
فيض القدير (۴/ ۲۵۶)دارالحدیث القاهره
(ثلاثة يدعون الله عز وجل فلا يستجاب لهم رجل كانت تحته امرأة سيئة الخلق) بالضم (فلم يطلقها) فإذا دعى عليها لا يستجيب له لأنه المعذب نفسه بمعاشرتها وهو في سعة من فراقها (ورجل كان له على رجل مال فلم يشهد عليه) فأنكره فإذا دعى لا يستجاب له لأنه المفرط المقصر بعدم امتثال قوله تعالى {وأشهدوا شهيدين من رجالكم} (ورجل أتى سفيها) أي محجورا عليه بسفه (ماله) أي شيئا من ماله مع علمه بالحجر عليه فإذا دعى عليه لا يستجاب له لأنه المضيع لماله فلا عذر له (وقد قال الله تعالى: ولا تؤتوا السفهاء أموالكم)
حاشيه فيض القدير (۴/ ۲۵۶)دارالحدیث القاهره
صحيح أخرجه الحاكم… قال الحاكم هذا حديث صحيح على شرط الشيخين وأقرہ الذهبي