بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تیسری آدمی کی موجودگی میں دوآدمیوں کاغیرزبان میں اس کی برائی کرنا

سوال

اگرکوئی شخص کسی کےسامنےاس کی برائی کرتاہے لیکن جس کی برائی کی جارہی ہے اس کی غیرلسان میں کی جارہی ہےمثلا کوئی اردو دان کسی غیراردودان کی برائی کرتاہےاس کے سامنےاس حال میں کہ جس کی برائی کی جارہی ہے وہ اس کی زبان کونہیں سمجھتا تومذکورہ صورت میں اس کاکیاحکم ہوگایعنی اس کاکلام (برائی کرنا)غیبت ہوگایانہیں؟

جواب

مجلس میں دوآدمیوں کاایسی زبان میں بات کرناجسے تیسراآدمی نہ سمجھتاہوایذائے مسلم ہونے کی وجہ سے ناجائزاورگناہ ہے،خاص طورپرجبکہ اس تیسرے شخص کی برائی بیان کی جارہی ہوتواس میں غیبت کاپہلو بھی ہے کیونکہ غیبت کرنامتکلم کا فعل ہے اور اس کے لئے مخاطب یاسامع کاہم زبان ہونا ضروری نہیں ہے۔
الصحیح لمسلم بن الحجاج القشيري(م: 261هـ)(2/ 321)یادگارشیخ
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلي الله عليه وسلم قال:«أتدرون ما الغيبة؟» قالوا:الله ورسوله أعلم،قال:«ذكرك أخاك بما يكره»۔
المصنف لأبي بكر بن أبي شيبة(م: 235هـ)(5/ 232)مكتبة الرشد–الرياض
قال عبد الله:«إذاكان ثلاثة نفر ينتجي اثنان دون واحد فإن ذلك يسوءه»۔
 مرقاة المفاتيح،علي بن (سلطان) محمد الملا الهروي القاري (م: 1014هـ)(7/ 3032)دارالفكر
          قال النووي: اعلم أن الغيبة من أقبح القبائح، وأكثرها انتشارا بين الناس حتى لا يسلم منها إلا القليل من الناس، وذكرك فيه بما يكرهه عام، سواء كان في بدنه أو دينه أو دنياه أو نفسه أو خلقه أو ماله أو ولده أو والده أو زوجه أو خادمه أو ثوبه أو مشيه وحركته وبشاشته وعبوسته وطلاقته، أو غير ذلك مما يتعلق به، سواء ذكرته بلفظك أو كتابك، أو رمزت أو أشرت إليه بعينك أو يدك أو رأسك ونحو ذلك، وضابطه أن كل ما أفهمت به غيرك نقصان مسلم فهو غيبة محرمة، ومن ذلك المحاكاة بأن يمشي متعارجا أو مطأطئا، أو على غير ذلك من الهيئات مريدا حكاية هيئة من ينقصه بذلك۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

4

/

59

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس