بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تھریشر کرنے والے کو اجرت اسی گندم سے دینا

سوال

نمبر1۔ہمارےگاؤں میں ایک صاحب ہے جن کے پاس ایک تھریشرہے اور ایک آٹے کی چکی، جب گندم وغیرہ تھریشر کرتاہے یاآٹاپیس تاہےتو عوض اسی گندم(دانوں)میں سے لیتاہے،اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔
الف۔ تيل صاحبِ تهريشر كا هو،اس صورت ميں عوض ميں گندم زياده لےگامثلا:پانچواں ٹين،
ب۔تيل مالك (صاحبِ گندم)كاهو،اس صورت ميں گندم كم لےگا،مثلا:دسواں ٹين
پوچهنایہ ہے کہ اس کو اپنا عوض (اجرت)اسی گندم میں سے لینا جائزہےیانہیں؟ اگرنہیں تو اس کی جائز ہونے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟
نمبر2۔یہی صورت چکی میں بھی ہوتی ہے ،مگر وہاں تیل چکی والے کا ہی ہوتا ہے اجرت یاپیسے لیتا ہے یاانہیں دانوں سے۔
نمبر3۔بعض علاقوں میں چکی کےدور ہونے کی وجہ سےگاڑیوںمیں دانے بھیجے جاتے ہیں گاڑی والااپناکرایہ لیتاہے چکی والے اپنی اجرت اسی گندم سے لیتاہےجس کی مقدار کی تعیین جانب واحد (چکی والے کی طرف) سےہوتی ہے اور لوگوں کو اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہوتاان میں کونسی صورت جائز ہے اور کونسی ناجائز؟ اورکیایہ صورت المعروف کاالمشروط بن سکتی ہے؟

جواب

نمبر1۔واضح رہے کہ اگرمعاملہ کرتے وقت یہ طے کیا جائے کہ اجرت بعینہ اسی تھریشرسے تیارکی جانےوالی گندم میں سےادا کی جائے گی تو تھریشر والے کو اسی کے تھریشر سے تیار کی ہوئی گندم سے اجرت دیناناجائز ہے ،لیکن اگر شروع میں معاملہ کرتے وقت اجرت بعینہ اسی گندم سے دینامشروط نہ کی جائے بلکہ صرف گندم اور اس کی مقدار کا ذکر کیا جائے مثلا: یہ کہا جائے کہ ایک من گندم تھریشرکرنےپر ایک کلو گندم دوںگا خاص اسی کے تھریشر سے تیار کی ہوئی گندم کی جانب اشارہ یانسبت نہ کی جائے تویہ صورت جائز ہے ،اگر چہ بعد میں اسی گندم سے اجرت اداکرنی پڑے۔
نمبر2۔یہی صورت آٹےکی چکی کی بھی ہے کہ معاملہ کرتے وقت مطلقاًآٹےکا دینا طے ہوجائے اور یہ تعیین نہ کی جائے کہ یہی آٹا دیا جائے گا تو یہ معاملہ جائز ہوگا چاہے بعدمیں اجرت اسی آٹے سے ھی دی جائے۔
نمبر3۔چکی والے کو چاہئے کہ اپنی اجرت کی مقدار اجناس کی صورت میں متعین طور پرمطلقاًلکھ کر لگادے تاکہ اجرت میں ابہام اور جہالت نہ رہے۔
بدائع الصنائع (2/ 15)دارالكتب العلمية
ومنها أن لا ينتفع الأجير بعمله فإن كان ينتفع به لم يجز؛ لأنه حينئذ يكون عاملا لنفسه فلا يستحق الأجر ولهذا قلنا: إن الثواب على الطاعات من طريق الإفضال لا الاستحقاق؛ لأن العبد فيما يعمله من القربات، والطاعات عامل لنفسه قال سبحانه وتعالى {من عمل صالحا فلنفسه} [فصلت: 46] ومن عمل لنفسه لا يستحق الأجر على غيره وعلى هذه العبارة أيضا يخرج الاستئجار على الطاعات فرضا كانت أو واجبة أو تطوعا؛ لأن الثواب موعود للمطيع على الطاعة فينتفع الأجير بعمله فلا يستحق الأجر وعلى هذا يخرج ما إذا استأجر رجلا ليطحن له قفيزا من حنطة بربع من دقيقها أو ليعصر له قفيزا من سمسم بجزء معلوم من دهنه أنه لا يجوز؛ لأن الأجير ينتفع بعمله من الطحن والعصر فيكون عاملا لنفسه وقد روي عن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – أنه «نهى عن قفيز الطحان
الفتاوى الهندية (4/ 502)دارالكتب العلمية
صورة قفيز الطحان أن يستأجر الرجل من آخر ثورا ليطحن به الحنطة على أن يكون لصاحبها قفيز من دقيقها أو يستأجر إنسانا ليطحن له الحنطة بنصف دقيقها أو ثلثه أو ما أشبه ذلك فذلك فاسد والحيلة في ذلك لمن أراد الجواز أن يشترط صاحب الحنطة قفيزا من الدقيق الجيد ولم يقل من هذه الحنطة أو يشترط ربع هذه الحنطة من الدقيق الجيد لأن الدقيق إذا لم يكن مضافا إلى حنطة بعينها يجب في الذمة والأجر كما يجوز أن يكون مشارا إليه يجوز أن يكون دينا في الذمة ثم إذا جاز يجوز أن يعطيه ربع دقيق هذه الحنطة إن شاء. كذا في المحيط….ولا تصح إجارة الرحى ليطحن بره ببعض دقيقه. كذا في شرح أبي المكارم
الدر المختار (9/ 97)رشيدية
ولو دفع غزلا لآخر لينسجه له بنصفه أي بنصف الغزل أو استأجر بغلا ليحمل طعامه ببعضه أو ثورا ليطحن بره ببعض دقيقه فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه – صلى الله عليه وسلم – عن قفيز الطحان وقدمناه في بيع الوفاء. والحيلة أن يفرز الأجر أولا أو يسمي قفيزا بلا تعيين ثم يعطيه قفيزا منه فيجوز
احسن الفتاوی( 7/312)مکتبہ اشاعت الاسلام

یہ صورت ناجائز ہے کیونکہ عمل سے اجرت دیناناجائز ہے

کذافی امد ادالاحكام(3/585)مکتبہ دارالعلوم کراچی

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس