بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تم مجھ سے آزاد ہو ، زبانی تین دفعہ طلاق دینا

سوال

29 اکتوبر کو میری شادی ہوئی ،27 دسمبر کو میرے شوہر نے مجھے میسج کیا “تم مجھ سے آزاد ہو۔۔جہاں جانا چاہتی ہو جاؤ”پھر اگلے ہی دن تین دفعہ زبانی طلاق دی۔میں اپنے گھر آگئی تو میرا شوہر مجھ سے معذرت کرکےمجھے واپس لے گیا۔ پھر یکم جون کو میں نے کمرے میں دیکھا کہ میرا شوہر ایک کاغذ گھر لایا ہے جس پر لکھا تھا”میں اس کو پہلی طلاق یا طلاق اول دیتا ہوں”اسکی فیملی نے اسکو یہ کاغذ مجھے نہیں دینے دیا،پھر میں اپنے گھر آگئی۔چھ اگست کو میری بیٹی ہوئی،اس یکم جون سے 06/اگست کے دوران دو دفعہ وہ مجھے لینے آیا لیکن میں نے انکار کیا اور کہا کہ دو تین ماہ بعد آؤں گی۔ 28 ستمبر کو اس نے مجھے اس کاغذ(پہلی طلاق ) کی تصویر بھیجی اور کہا کہ آپ نےنہیں آنا تو اس معاملے کو آگے بڑھائیں۔ اب آپ سے میرے یہ سوالات ہیں
نمبر1: یکم جون والی طلاق واقع ہوئی ۔ اگر ہوئی تو اب کیا حل ہے؟
نمبر2: 28ستمبر کو جو تصویر واٹس ایپ کی وہ طلاق شمار ہوگی ؟اگر ہوگی تو اب کیا حل ہے۔
نمبر3: زبانی طلاق اور 27دسمبر والا میسج طلاق میں شمار ہوگا؟

جواب

بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں جب آپ کے شوہر نے 27 دسمبر کو میسج کیا کہ”تم مجھ سے آزاد ہو۔”اور اس سے اگلے دن تین دفعہ زبانی طلاق دی تو اسی سے تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوگئی اور آپ دونوں ایک دوسرے پر حرام ہو گئے تھے ،اس کے بعد آپ کے لئے اکھٹے رہنا جائز نہیں تھا لہٰذا آپ دونوں پر لازم ہے کہ اپنے اس عمل پر توبہ واستغفار کریں اور آئندہ ایک دوسرے سے جدا رہیں۔
قال اللہ تعالی : البقرہ:90
فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَاتَحِلُّ لَہٗ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًاغَیْرَہٗ۔
الفتاوی الھندیۃ (1/506)بیروت
وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحاویدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایۃ۔
الفتاوی الھندیۃ (1/390) بیروت
واذا قال لامرتہ:انت طلاق وطالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط ان کانت مدخولۃ طلقت ثلاثا وان کانت غیر مدخولۃ طلقت واحدۃ،وکذا اذا قال :انت طالق فطالق فطالق او ثم طالق ثم طالق او طالق طالق کذا فی السراج الوھاج۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس