ہم 4 بہن بھائی ہیں بڑی دو بہنیں اور دو بھائی ،والدہ بھی حیات ہیں ۔ اور بند ہ کے والد صاحب کا انتقال 1995 ء میں ہوا۔
نمبر ۱۔جس گھر میں والد صاحب رہائش پزیرتھے اس وقت وہ کہا کرتے تھے کہ نیچے کے حصے میں سلطان (بڑابیٹا) اور اوپر کے حصے میں نعمان رہے گا ۔ اب تک والدہ اور دونوں بیٹے اسی گھر میں رہائش پذیر ہیں اور مکان کا اوپر کا کچھ حصہ کرائے پر بھی دیا ہوا ہے ۔دونوں لڑکیاں شادی شدہ ہیں کیا اس میں لڑکیوں کا حصہ ہے ۔
نمبر۲۔والد صاحب نے ايك پلاٹ لاہور میں آفس کے ذریعے بک کروایا تھا جس کے بارے میں وہ کہا کرتے تھے کہ یہ میں نے اپنی چھوٹی بیٹی کےلیے لیا ہے وہ اس کی قسطیں جمع کرواتے رہےکہ اس دوران ان کا انتقال ہو گیا بعد میں جب والدہ کے پاس آفس سے روپے جمع کروانے کا نوٹس آیا تو انہوں نے اپنے داماد سے کہا کہ ہم یہ روپیہ جمع نہیں کرواسکتے کیونکہ والد نے یہ پلاٹ اپنی بیٹی کےلیے لیا تھا اس لیے باقی رقم تم خود جمع کرواؤ اس لیے والدہ کےکہنے پر ان کے داماد نے بقیہ رقم دو لاکھ پینسٹھ ہزار روپے خود جمع کروائی۔اب اس پلاٹ کی شرعی حیثیت کیاہے؟
نمبر ۳۔والد نے اپنی زندگی میں ایک اور پلاٹ اپنے بیٹے سلطان کے نام سے لاہور میں بک کروایا انتقال کے وقت تک وہ ستر ہزار روپے جمع کروا سکے تھے باقی رقم ان کے بیٹے نے خود جمع کرائی اب اس پلاٹ کی شرعی حیثیت کیاہے؟
نمبر ۴۔والد نے اپنی زندگی میں اپنی بڑی بیٹی کو مختلف اوقات میں رقم دی جو کل نولاکھ بنتی ہے اس کی شرعی حیثیت کیاہے ؟
نمبر۵۔والد کے چھوڑے ہوئے روپے میں سے والدہ نے چھوٹے بیٹے کو پلاٹ خرید نے کےلیے دولاکھ روپے دیے ان کے بیٹے(نعمان ) نے اپنے نام سے پلاٹ لینے کی بجائے اپنی بیوی کے نام سے لیا۔ اب اس کی شرعی حیثیت کیاہے ؟
نمبر۶۔والد کے انتقال کے بعد والدہ نے ان کے چھوڑے ہوئے روپے تقریبا چار لاکھ روپے کاروبار میں لگائے جس کے منافع سے گھر کا گزارہ ہوتا تھا ۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے اس میں سے نعمان کی شادی کےلیے ڈیڑھ لاکھ روپے نکال لیے بقایا رقم ان کے پاس ہے اس رقم کی شرعی حیثیت کیاہے ؟۔
نمبر۱۔شرعاً ہبہ تام ہونے کیلئے ضروری ہے کہ ہبہ کی جانے والی شیء پر قبضہ کرلیاجائے جبکہ مذکورہ صورت میں مرحوم نے اپنی زندگی میں اولاد کو مکان ہبہ کرکے قبضہ نہیں کروایا جس کی وجہ سے ہبہ تام نہ ہو ا۔لہٰذا مرحوم کے ترکہ پر جتنا نفع ہوا ہے اس میں تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حصہ دار ہوں گے۔
نمبر۲،۳۔ والدہ نے جو دوپلاٹ دامادا ور بیٹے کو بقیہ قسطیں کی ادائیگی کی ذمہ داری لگا کر ان کو دیے یہ پلاٹ والد نے اپنی زندگی میں ان کو ہبہ نہیں کئے اور نہ ہی والد کی وفات کے بعد دیگر ورثاء نے بیٹے اور داماد سے کچھ لےکر تخارج کیا اس لیے مذکورہ دونوں پلاٹوں میں بدستور ورثاء کا حق ہے البتہ بیٹے اور داماد نے جو قسطیں ادا کی ہیں وہ ورثاء سے لینے کے حقدار ہیں
نمبر۴ ۔مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنی بیٹی کو جو رقم ہبہ کردی تھی، بیٹی ان کی مالک ہے اس میں دیگر ورثاء کو کوئی حق نہیں ہے۔
نمبر۵۔والدہ نے چھوٹے بیٹے کو جو رقم ترکہ میں سے دی اتنی ہی رقم بیٹے پر قرض ہے جس میں تمام ورثاء حق دار ہیں ۔
نمبر۶۔ جتنی رقم باقی ہے وہ ورثاء کا حق تھا،البتہ اب خرچ ہونے کے بعد اس کے بارے میں تمام ورثاء رضامندی سے مصالحت کی کوئی صورت اختیار کرلیں تو زیادہ بہتر ہے۔