بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تعليق طلاق كےبعد رجوع كرنا اور تعليق طلاق سے بچنے كا حیلہ

سوال

میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تم نے اپنی بہن (یعنی میری سالی ) سے بات کی تو تمہیں تین طلاق، کیونکہ میری سالی ہمارے درمیان جھگڑا کراتی ہے، جس کی وجہ سے ہمارے درمیان کافی تلخیاں پیدا ہوجاتی ہیں ۔ اسی لیے میں نے اسے ڈرانے کےلئے یہ اقدام کیا، مگر اب میں چاہتاہوں کہ میں اپنی اس تعلیق کوختم کروں اور میری بیوی تاکہ میری سالی سے بات کرسکے تو کیا میری تعلیق ختم کرنے سے تعلیق ختم ہوجائے گی یا نہیں ؟ اور کیا تعلیق ختم کرنے کےبعد میری بیوی نے سالی سے بات کی تو اس کو تین طلاق واقع ہو جائیں گی کہ نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص طلاق کو کسی کام پر معلق کردے تو اب وہ تعلیق ختم نہیں ہوسکتی۔ اگرچہ وہ شخص اس تعلیق سے رجوع بھی کرلے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر آپ کی بیوی نے اپنی بہن (آپ کی سالی ) سے بات کی تو تین طلاق واقع ہوکر آپ کی بیوی مغلظہ ہوجائےگی ۔اور آپ دونوں ایک دوسرے پر حرام ہوجائیں گے ۔
البتہ مذکورہ صورت حال میں تین طلاقوں سے بچنے کا ایک حیلہ یہ ہے کہ آپ اپنی بیوی کو ایک طلاق بائن دے دیں اور عدت گزارنے کےبعد آپ کی بیوی اپنی بہن (آپ کی سالی ) سے بات کرلےپھر آپ اپنی بیوی سے مہر جدید کےساتھ گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کرلیں تو اس صورت میں تعلیق ختم ہوجائے گی اور اس کےبعد آپ کی بیوی آپ کی سالی سے بات کرلے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اور آپ کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق باقی رہ جائےگا۔
الفتاوي الهندية (1/457) العلمية
وإضافه الي الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا۔
الاختيار لتعليل المختار (2/181) حقانيه پشاور
قال: (فإذا علق الطلاق بشرط وقع عقيبه وانحلت اليمين وانتهت) لأن الفعل إذا وجد ثم الشرط فلا تبقى اليمين۔
رد المحتار على الدر المختار (3/ 355) سعيد
(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس