میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تم نے اپنی بہن (یعنی میری سالی ) سے بات کی تو تمہیں تین طلاق، کیونکہ میری سالی ہمارے درمیان جھگڑا کراتی ہے، جس کی وجہ سے ہمارے درمیان کافی تلخیاں پیدا ہوجاتی ہیں ۔ اسی لیے میں نے اسے ڈرانے کےلئے یہ اقدام کیا، مگر اب میں چاہتاہوں کہ میں اپنی اس تعلیق کوختم کروں اور میری بیوی تاکہ میری سالی سے بات کرسکے تو کیا میری تعلیق ختم کرنے سے تعلیق ختم ہوجائے گی یا نہیں ؟ اور کیا تعلیق ختم کرنے کےبعد میری بیوی نے سالی سے بات کی تو اس کو تین طلاق واقع ہو جائیں گی کہ نہیں؟
البتہ مذکورہ صورت حال میں تین طلاقوں سے بچنے کا ایک حیلہ یہ ہے کہ آپ اپنی بیوی کو ایک طلاق بائن دے دیں اور عدت گزارنے کےبعد آپ کی بیوی اپنی بہن (آپ کی سالی ) سے بات کرلےپھر آپ اپنی بیوی سے مہر جدید کےساتھ گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کرلیں تو اس صورت میں تعلیق ختم ہوجائے گی اور اس کےبعد آپ کی بیوی آپ کی سالی سے بات کرلے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اور آپ کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق باقی رہ جائےگا۔
الفتاوي الهندية (1/457) العلمية
وإضافه الي الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا۔
الاختيار لتعليل المختار (2/181) حقانيه پشاور
قال: (فإذا علق الطلاق بشرط وقع عقيبه وانحلت اليمين وانتهت) لأن الفعل إذا وجد ثم الشرط فلا تبقى اليمين۔
رد المحتار على الدر المختار (3/ 355) سعيد
(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها۔