بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تصویر کشی اور فوٹو گرافی اور بچوں کا کارٹون دیکھنا

سوال

اسلام میں تصویر کشی اور فوٹو گرافی کی کہاں تک اجازت ہے؟ کیا موبائل میں فوٹو بنانا جائز ؟ باقی جیسے بچوں کے کارٹون ہوتے ہیں اور کتابوں پر تصویری کہانیاں ہوتی ہیں۔ کیا یہ جائز ہے؟

جواب

جاندار کی تصویر کشی اور فوٹو گرافی جائز نہیں ہے احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں تصویر بنانے والے کے لئے وارد ہوئیں ہیں چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ “قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب تصویر بنانے والوں کے لئے ہوگا ” اگر تصویر بے جان کی ہو تو اس کی گنجائش ہے اسی طرح موبائل میں ڈیجیٹل کمرے کے ذریعے سے جو کچھ محفوظ کیا جاتا ہے وہ ممنوعہ تصاویر کے حکم میں نہیں ہے جب تک اس کا پرنٹ آؤٹ نہ لیا جائے ۔تا ہم بعض معاصر اہل علم کے نزدیک ڈیجیٹل تصویر بھی تصویر محرم کے حکم میں ہے لہٰذا بلا ضرورت اس ڈیجیٹل تصویر کشی سے بھی اجتناب کرنا چاہیے ۔لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ جس چیز کی اصل دیکھنا جائز نہیں اس کی ڈیجیٹل تصویر دیکھنا بھی جا ئز نہیں(نامحرم کی تصاویر وغیرہ) ۔
اگر کارٹون واضح طور پر انسان یا کسی دوسرے جاندار شکل میں نہ ہو اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی کوئی بے حیائی ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں ۔
صحيح البخاري (1/296) قدیمی 
عن سعيد بن أبي الحسن، قال: كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما، إذ أتاه رجل فقال: يا أبا عباس، إني إنسان إنما معيشتي من صنعة يدي، وإني أصنع هذه التصاوير، فقال ابن عباس: لا أحدثك إلا ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سمعته يقول: «من صور صورة، فإن الله معذبه حتى ينفخ فيها الروح، وليس بنافخ فيها أبدا» فربا الرجل ربوة شديدة، واصفر وجهه، فقال: ويحك، إن أبيت إلا أن تصنع، فعليك بهذا الشجر، كل شيء ليس فيه روح
فتح الباري لابن حجر (10/ 394) بیروت 
وقوله ليس بنافخ أي لا يمكنه ذلك فيكون معذبا دائما وقد تقدم في باب عذاب المصورين من حديث بن عمر أنه يقال للمصورين أحيوا ما خلقتم وأنه أمر تعجيز۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 647)
وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أولغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره اهـ كلام البحر ملخصا
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس