ایک شخص نے اپنی بیوی کو تحریری نوٹس میں لکھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اب وہ اس کی بیوی نہی رہی کیونکہ بارہا اسکے والدین طلاق کا مطالبہ کرتے رہے تو اب وہ آزاد ہے تقریبا ایک ماہ بعد رجوع صلح کیلئے کوشش کی لیکن صلح نا ہوئی پھر چار ماہ بعد دوسرا نوٹس بھیجا جس میں دو مزید طلاق دیں ۔پھر چار دن بعد تین مرتبہ زبانی طلاق دے دی۔ راہنمائی فرمائی جا ئے کہ کیا پہلے نوٹس میں صریح طلاق کے ساتھ کنایہ جو استعمال کیا کہ اب وہ میری بیوی نہی رہی اور اب وہ آزاد ہے سے رجعی طلاق ہو گی یا بائن یا مغلظہ مزید عدت کے بعد طلاق کا حکم کیا ہو گا۔کیا خاوند بیوی دوبارہ آپس میں ازدواجی زندگی گزارنے کی کوئی صورت ہے تو کون سی ۔جواب عنایت فرمائیں۔
مذکورہ شخص نے اپنی بیوی کو نوٹس کے ذریعے طلاق صریح دے دی اور اس کے بعد اگر نتیجہ کے طور پر یہ الفاظ کہے “اب وہ اسکی بیوی نہیں رہی کیونکہ بارہا اس کے والدین طلاق کا مطالبہ کرتے رہے تو وہ اب آزاد ہے ” اس سے مزید طلاق دینے کا ارادہ نہ تھا تو صرف ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی۔ اب عدت کے دوران اسکو رجوع کا حق حاصل تھا لیکن اگر عدت کے دوران اگر اس نے رجوع نہیں کیا تو میں بیوی کا نکاح ختم ہو گیا۔چار ماہ کے بعد جو طلاق دی گئی ہے اس سے پہلے اگر اگر عورت کی عدت گزر چکی تھی تو اب جو طلاق دی ہے وہ لغو ہے ۔ اب اگر وہ آپس میں ازدواجیزندگی گزارنا چاہے تو دوبارہ گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کرنا ہوگا۔
الفتاوی الھندیة (1/504) دارالکتب العلمیة
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية۔
الفتاوی الھندیة (1/506) دارالکتب العلمیة
إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها۔
البحر الرائق (4/94) رشیدیة
(قوله وينكح مبانته في العدة، وبعدها) أي المبانة بما دون الثلاث لأن المحلية باقية لأن زوالها معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبلها، ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب، ولا اشتباه في الإطلاق له۔
تبیین الحقائق (3/162) دارالکتب العلمیة
(وينكح مبانته في العدة وبعدها) أي له أن يتزوج التي أبانها بما دون الثلاث إذا كانت حرة وبالواحدة إن كانت أمة في العدة وبعد انقضائها؛ لأن الحل الأصلي باق ما لم يتكامل العدد والمنع إلى انقضاء العدة لئلا يشتبه النسب ولا اشتباه في إباحته له فيباح له مطلقا۔