بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تحریری طلاق کا حکم

سوال

محترم جناب میرے شوہر نے تقریباً 2سال قبل مجھے ایک ایک ماہ کے وقفہ سے 2 نوٹس طلاق کے  بھیجے تھے۔اس کے بعد صلح کرکے لے گئے،  بعد میں تقریباً ڈیڑھ سال میں ان کے ساتھ رہی ۔اب پھر لڑائی کر کے نکال دیاہے ۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نےسابقہ (ناظم ) کو اب پھر طلاق لکھ کر بھیج دی ہے تقریباً ایک ماہ ہوگیا ہے مگر ہمیں ابھی  تک کوئی تحریری کاغذ نہیں ملا ۔ آپ اس کی شرعی حیثیت بتائیں آیا یہ طلاق پہلی ہے یا تیسری اور اس میں اب کوئی گنجائش ہے یا نہیں ؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ صورت حال اگر حقیقت پر مبنی ہے کہ دو طلاقوں کے بعد شوہر نے رجوع کرلیا تھا تو اس صورت میں اب اگر شوہر نے مزید طلاق لکھ دی ہے یا زبان سے کہہ دی ہے تو تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے۔ اب نہ رجوع ہوسکتاہے اور نہ ہی تحلیل شرعی کے بغیر دوبارہ نکاح ہوسکتاہے ۔
        واضح رہے کہ شوہر کی تحریر آپ کو ملنا ضروری نہیں ہے صرف شوہر کے لکھنے سے طلاق واقع ہوجائے گی۔
قال الله تعالى:[البقرة229،230]
{الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ۔۔۔۔۔فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}
: بدائع الصنائع، علاء الدين الكاساني (م: 587ه)(3/295) العلمیۃ
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة
: الهداية،أبو الحسن برهان الدين (م: 593ه)(2/409)حبیبیۃ رشیدیۃ
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس