بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تجارت کی نیت سے مکان خرید کر نیت تبدیل کرنے کی صورت میں اس پر زکوٰۃ کا حکم

سوال

ہم دو بھائیوں نے آج سے چار سال پہلے ایک زمین خریدی اپنے آبائی علاقے میں بغرض تجارت لیکن دو سال بعد جب زمین کی خریداری کی قیمت ادا ہو گئی تو ہمارے والد صاحب نے ہمیں اس زمین کو بیچنے سے منع کر دیا اس وقت تک ہماری نیت یہی ہے کہ اس زمین کو نہیں بیچنا ۔آئندہ کے لئے ذہن میں یہ بات ہے کہ جب دس پندرہ سال بعد جب کبھی زمین کے ریٹ اچھے ہو گئے تو اس وقت پھر بیچنے کا سوچیں گے۔ اب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ ہم دو سال کی زکوٰۃ ادا کریں یا چار سال کی یا آئندہ بھی زکوٰۃ ادا کرتے رہیں؟

جواب

واضح رہے کہ خالص تجارت کی نیت سے زمین خریدنے کے بعد جب تک حتمی طور پر یہ نیت برقرار رہے گی اس وقت تک اس (زمین ) کی زکوۃ ادا کرنا فرض ہے ۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ زمین کی دو سالوں کی زکوٰ ۃ ادا کرنا لازم ہے ۔اس کے بعد اگر فروخت کرنے کی نیت حتمی طور پرباقی نہیں رہی یعنی یہ نیت ہو کہ اس زمین میں گھر وغیرہ بنائیں گے یا مناسب لگا تو فروخت کردیں گے تو ایسی صورت میں اس زمین کی زکوۃ فرض نہیں ہو گی اور اگر نیت فروخت کرنے کی ہی ہے اگرچہ فی الحال فروخت کرنے کا ارادہ نہ ہو تو اس صورت میں اگلے سالوں کی زکوۃ بھی فرض ہوگی ۔(ماخذه: فتاوی عثمانی41/2:)
الدر المختار (2/ 273)ایچ ایم سعید
 إنما يزكى بنية التجارة بشرط عدم المانع المؤدي إلى الثنى وشرط مقارنتها لعقد التجارة وهو كسب المال بالمال بعقد شراء أو إجارة أو استقراض. ولو نوى التجارة بعد العقد أو اشترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه
الدرالمختار(2/272)
“(لايبقى للتجارة ما) أي عبد مثلاً (اشتراه لها فنوى) بعد ذلك (خدمته ثم) ما نواه للخدمة (لايصير للتجارة) وإن نواه لها ما لم يبعه بجنس ما فيه الزكاة. والفرق أن التجارة عمل فلاتتم بمجرد النية؛ بخلاف الأول فإنه ترك العمل فيتم بها
بدائع الصنائع  (2/  395) دار الكتب العلمية
ثم نية التجارة والإسامة لا تعتبر ما لم تتصل بفعل التجارة والإسامة؛ لأن مجرد النية لا عبرة به في الأحكام لقول النبي – صلى الله عليه وسلم -: «إن الله عفا عن أمتى ما تحدثت به أنفسهم ما لم يتكلموا به أو يفعلوا» ثم نية التجارة قد تكون صريحا وقد تكون دلالة أما الصريح فهو أن ينوي عند عقد التجارة أن يكون المملوك به للتجارة بأن اشترى سلعة ونوى أن تكون للتجارة عند الشراء فتصير للتجارة سواء كان الثمن الذي اشتراها به من الأثمان المطلقة أو من عروض التجارة أو مال البذلة والمهنة أو أجر داره بعرض بنية التجارة فيصير ذلك مال التجارة لوجود صريح نية التجارة مقارنا لعقد التجارة…والنية المقارنة للفعل معتبرة
بدائع الصنائع (2/  397) دار الكتب العلمية
وأما الدلالة فهي أن يشتري عينا من الأعيان بعرض التجارة، أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض من العروض فيصير للتجارة وإن لم ينو التجارة صريحا؛ لأنه لما اشترى بمال التجارة فالظاهر أنه نوى به التجارة
بدائع الصنائع (2/398) دار الكتب العلمية
 وأما إذا اشترى عروضا بالدراهم أو بالدنانير أو بما يكال أو يوزن موصوفا في الذمة فإنها لا تكون للتجارة ما لم ينو التجارة عند الشراء
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس