روز مرہ گھریلو ناچاقی اور لڑائی کی صورت میں اور ہر وقت نازیبہ الفاظ کے چناؤاور والدین کے ساتھ ناچاقی اور لڑائی کی صورت میں آکر میں نے اپنی بیگم کو کہا کہ میں تین دفعہ طلاق دیتا ہوں اور میں اہلسنت حنفی فقہ سے تعلق رکھتا ہوں اگر میں دوبارہ رجوع کروں تو کیا صورت ہوگی اور کیا یہ طلاق ہو چکی ہے اور اس میں رجوع ہو سکتا ہے؟
صورت مسئولہ میں تین مرتبہ طلاق دینے سےتین طلاقیں واقع ہو کرحرمت مغلظہ ثابت ہوگئی ہے۔ اور نکاح ختم ہو گیا ہے۔اب موجودہ صورت حال میں دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن چکے ہیں،لہٰذا ان کے لیے ایک ساتھ رہنا جائز نہیں ہے نہ آپس میں رجوع کر سکتے ہیں ،اور نہ ہی نیا نکاح کر کے اکٹھے رہ سکتے ہی،البتہ اگر عورت عدت طلاق گزارنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اور ہمبستری بھی ہو جائے پھر دوسرے شخص کا انتقال ہو جائے یا وہ کسی وجہ سے طلاق دےدے تو عدت گزرنے کے بعد پہلا شوہر اس عورت کے ساتھ اسکی رضامندی سے دوبارہ نکاح کر سکتا ہے ۔
واضح رہے کہ دوسری جگہ مستقل رہنے کی نیت سے نکاح کرنا چاہئے،حلالہ کی شرط پر نکاح کرنا ناجائز اور گناہ ہے۔
أحكام القرآن (2/83)إحياء التراث العربي بيروت
قوله تعالى { فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهارفوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور
صحيح البخاري (7/43) دار طوق النجاۃ
وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك»
صحيح البخاري (7/43) دار طوق النجاۃ
عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول
سنن الترمذي(2/419) دار الغرب الإسلامي – بيروت
عن عبد الله بن مسعود قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المحل والمحلل له
سنن أبي داود (2/ 274) المكتبة العصرية
عن ابن شهاب، عن سهل بن سعد، في هذا الخبر، قال: فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأنفذه رسول الله صلى الله عليه وسلم
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/295)العلمية
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة
الفتاوى الهندية (1/506)العلمية
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند(۹/۲۱۰)حقانیہ