بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیٹے کا والد کو بڑے کاموں سے روکنا

سوال

میرے والد گرامی جن کی عمر 85 سے زیادہ ہے اور 7 ،6 سال سے ان کی طبیعت میں بے حد غصہ اور اکھڑ پن آگیا ہے۔ اور 14 سال ہو گئے ہیں انہوں نے ایک مسجد بنائی اور اب تک 100 کے قریب اپنی من مانی کی وجہ سے امام مساجد تبدیل کر چکے ہیں ۔
نمبر 1۔ مسجد میں نما زیوں سے بد تمیزی کرتا ہے جس کی وجہ سے مسجد میں کوئی نماز پڑھنے نہیں آتا۔
نمبر 2۔ مسجد میں پاکی اور ناپاکی کا خیال نہیں رکھتا مثلاً کبھی کبھی مسجد کے وضو خانہ میں پیشاب کر دیتا ہے اور ناپاک کپڑے ، بستر وغیرہ مسجد میں رکھتا ہے اور مسجد کو صاف بھی نہیں رکھتا ہے اور عیسائیوں سے مسجد کی صفائی بھی کرواتا ہے۔
نمبر 3۔ کرایہ داروں کو تنگ کرتا ہے اور ان سے کرایہ اور بجلی کے بلوں کی مد میں زیادہ پیسے وصول کرتا ہے۔ اور نہ دینے کی صورت میں گالیاں اور ہاتھا پائی اور تھانوں کے چکر لگوا کر بلیک میل کرتا ہے اور بہت سے کرایہ دار تنگ آکر مکان چھوڑ چکے ہیں اور ان کے پیسے بھی واپس نہیں کیے۔
نمبر 4- گھر کے برتنوں میں پیشاب وغیرہ کر دیتا ہے جس کی وجہ سے گھر والے بھی بہت تنگ ہیں روکنے پر بیوی، بیٹے کو گندی گالیاں اور بد دعائیں بھی دیتا ہے اور گھر سے کھانے پینے کی اشیاء کو غائب کر دیتا ہے اور بعد میں جھوٹ کے طور پر قسمیں بھی کھاتا ہے اور باتوں میں بھی جھوٹ بولتا ہے اور شیطانیاں بھی کرتا ہے اور بعد میں یہ کہتا ہے کہ میں نے یہ کام نہیں کیا جبکہ در حقیقت اسی نے ہی کیا ہوتا ہے۔
نمبر5۔ مسجد میں لوگوں سے چندے کی مد میں زبر دستی پیسے وصول کرتا ہے اور ان کو مسجد میں بھی خرچ نہیں کرتا۔
نمبر 6۔ کرایہ داروں اور محلہ داروں کی موٹر سائیکلیں چوری کر کے غائب کر کے کچھ عرصہ بعد خود استعمال کرتا ہے اور اس کو اپنی چیز ظاہر کرتا ہے۔ ابھی بھی 2،3 موٹر سائیکل چوری کی ان کے پاس اپنی بلڈنگ میں موجود ہیں۔
نمبر 7 ۔ بد تمیزی کی وجہ سے کوئی رشتہ دار ان کے گھر نہیں آتا حتی کہ بڑا بیٹا گھر نہیں آتا وہ اپنی الگ رہائش میں رہتا ہے۔
نمبر 8۔ اور لوگوں سے سود وغیرہ بھی لیتا ہے۔ نمبر 9۔ جھوٹ کے طور پر کلمہ پڑھ کر قسم بھی کھا چکا ہے ۔ نمبر 10۔ اگر کسی کرایہ دار کے گھر کا میٹر تیز چل رہا ہو تو ان کے گھر کی چادر اور چار دیواری کا لحاظ کیے بغیر ان کے گھر چلا جاتا ہے کہ کہیں ہیٹر تو نہیں چلایا۔
نمبر 11۔ میں کرایہ داروں سے زیادتی کرنے کی وجہ سے لڑوں یا بولوں تو میرے وکلاء دوستوں میں جاکر مجھ پر جھوٹی باتیں اور گھر کی باتیں بتا کر مجھے گندا کرتا ہے جس کی وجہ سے مجھے بڑی پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔ یہ تمام امور ان کی پختہ عادت بن چکی ہیں اس کے علاوہ بھی بہت ساری عادات ایسی ہیں جو نا قابل بیان ہیں ۔ والد صاحب کے اندر خیر کم ہے جبکہ شر ہی شر بہت زیادہ۔ جب بعض دفعہ میں اس کی موٹر سائیکل چھپاتا ہوں یا کمرے میں بند کر دیتا ہوں تو پاؤں پکڑ کر مجھے سے معافیاں مانگتا ہے اور آئندہ نہ کرنے کی قسمیں کھاتا ہے۔ جب اس کو چھوڑ دوں وہ تمام حرکات و سکنات دوبارہ شروع کر لیتا ہے۔ ان تمام صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے میرے لیے کیا حکم ہے کہ میں ان کو کمرے کے اندر بند کر کے ان کی خدمت کروں تو میرے لیے کوئی گناہ کا سبب نہیں ہو گا۔ یا کوئی اور آپ حل بتادیں تاکہ میں اس ظلم سے لوگوں، نمازیوں،گھر والوں کو بچاؤں۔ اور عند اللہ مجرم نہ ٹھہروں۔ شرعی طور پر میری راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

سائل کو چاہئے کہ وہ اپنی طرف سے والد کے حقوق کی ادائیگی اور حسن سلوک کا خیال رکھے۔ان کی خدمت ، اطاعت اور دیگر شرعی حقوق میں بلکل کوتاہی نہ کریں، البتہ ان کوذکر کردہ برے کاموں سے روکنا اورسمجھانابھی ضروری ہےجس کےلئے ایسا انداز اختیار کی جائے جس میں ان کی تذلیل وگستاخی اور مارپیٹ نہ ہو۔جیسے علماءوصلحاءیا ان کے ہم عمروں کے ذریعے سمجھایا اور بتایاجائے اور ان کے لئے مسلسل دعا کرتے رہیں۔ ان ساری تدابیر کے باوجود بھی اگر ایسی کیفیت بن جائے کہ ان کے ساتھ رہنا شدید دشوار ہو تو ان کو گھر میں بند کرنے کا اختیار تو آپ کو حاصل نہیں البتہ آپ اپنی رہائش کسی دوسری جگہ منتقل کرسکتے ہیں، لیکن ان کے خدمت اور دیکھ بھال کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ باقی دیگر لوگوں کو اگر آپ کے والد کی وجہ سے تکلیف پہنچ رہی ہے تو والد محترم کو نصیحت اور ان کےلئے دعا کے علاوہ سختی سے روکنے کا آپ کو حق نہیں۔
قال الله تعالى: [الإسراء: 23، 24]
{وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (23) وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا (24)}
{وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (8) } [العنكبوت: 8، 9]
{وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (15)} [لقمان: 15]
سنن الترمذي ت بشار (3/ 374) دار الغرب الإسلامي
عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: رضى الرب في رضى الوالد، وسخط الرب في سخط الوالد۔
شعب الإيمان (10/ 307) مكتبة الرشد للنشر والتوزيع
 عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” من أصبح مطيعا في والديه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة، وإن كان واحدا فواحدا، ومن أمسى عاصيا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من النار، وإن كان واحدا فواحدا ” قال الرجل: وإن ظلماه؟ قال: ” وإن ظلماه، وإن ظلماه، وإن ظلماه “۔
رد المحتار (4/ 78)سعد
[فرع] في فصول العلامي: إذا رأى منكرا من والديه يأمرهما مرة، فإن قبلا فبها، وإن كرها سكت عنهما واشتغل بالدعاء والاستغفار لهما فإن الله تعالى يكفيه ما أهمه من أمرهما. له أم أرملة تخرج إلى وليمة وإلى غيرها فخاف ابنها عليها الفساد ليس له منعها بل يرفع أمرها للحاكم ليمنعها أو يأمره بمنعها۔
بدائع الصنائع(7/ 173)دار الكتب العلمية
 فلا يحبس الوالدون وإن علوا بدين المولودين وإن سفلوا لقوله تبارك وتعالى {وصاحبهما في الدنيا معروفا} [لقمان: 15] وقوله تعالى {وبالوالدين إحسانا} [الإسراء: 23] وليس من المصاحبة بالمعروف والإحسان حبسهما بالدين إلا أنه إذا امتنع الوالد من الإنفاق على ولده الذي عليه نفقته فإن القاضي يحبسه لكن تعزيرا لا حبسا بالدين۔
قال الله تعالى: [النساء: 135]
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا}
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى} [المائدة: 8]
{وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214]
{أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا } [التحريم: 6]
{وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (74)} [الأنعام: 74]
سنن الترمذي ت بشار (5/ 275) دار الغرب الإسلامي
فقال: له ابنه عبد الله بن عبد الله: والله لا تنقلب حتى تقر أنك الذليل، ورسول الله صلى الله عليه وسلم العزيز، ففعل. هذا حديث حسن صحيح۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس