بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیٹی،چچازادبھائی،چچازادبہنوں اورچچازادبھائی کےبیٹےکےدرمیان تقسیم ميراث

سوال

ايك صاحب كی وفات ہوگئی ہے۔اس کی ایک بیٹی ہے،میت کےدوچچاتھےایک چچاکی وفات میت سےپہلےہوگئی،اس کاایک بیٹااورایک بیٹی ہے۔دوسرےچچااوراس کےبیٹےکی وفات میت سےپہلےہوگئی، لیکن چچاکےبیٹےکاایک بیٹاہے،ان کےدرمیان تقسیم میراث کیسےہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم نےبوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جوکچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال، جائیداد،سونا،چاندی ،نقدی اوراس کےعلاوہ ہرقسم کاچھوٹابڑاگھریلوسازوسامان چھوڑاہےوہ سب مرحوم کاترکہ ہےجس کےبارےمیں حکم شرعی یہ ہےکہ حقوقِ ثلاثہ (تجہیزوتکفین ،واجب الاداءقرض اورجائزوصیت)پرعمل کرنےکےبعدجومال بچ جائےاس کےکل دو(2)مساوی حصےکرکےایک حصہ مرحوم کی بیٹی کواوردوسراحصہ چچازادبھائی کودیدیاجائےبشرطیکہ مرحوم کےکوئی اورشرعی وارث موجودنہ ہوں۔واللہ خیرالوارثین
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس