بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیٹی،شوہر،والدین اورنانی کےدرمیان تقسیم میراث

سوال

: کچھ عرصہ قبل میری ہمشیرہ کا انتقال ہوا،انا للہ وانا الیہ راجعون ، ان کے ورثاء میں ایک نومولودبیٹی ، شوہر، تین بھائی، والدین اور مرحومہ کی نانی ہیں، مذکورہ ورثاء میں وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ نیزیہ بھی بتائیں کہ کیامرحومہ کے کسی جانورکوذبح کر کے لوگوں کی دعوت کی جاسکتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال، جائیداد،سونا ، چاندی،نقدی(خواه حج کے لئے جمع کی ہو)، جانور،جہیزکاسامان اوراس کے علاوہ ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کا ترکہ ہےجس كے بارے میں حكم شرعی یہ ہے کہ اگر مرحومہ پر کسی کا واجب الأداء قرضہ ہو تو اسے ادا کیا جائے ،اس کے بعد دیکھیں اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی ایک تہائی كی حدتک اس پر عمل کیا جائے، ا س کے بعدبقيہ مال کے کل تیرہ(۱۳)مساوی حصے کرکےمرحومہ کے شوہرکوتین (۳)حصے ، بیٹی کوچھ(۶)حصے اوروالدين ميں سے ہرایک کودو(۲)حصے دیئے جائیں۔واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں تقسیم سے پہلے مشترکہ ترکہ میں سے کسی جانور کو ذبح کرکے لوگوں کی دعوت کرنا شرعاً جائزنہیں۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

4

/

65

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس