دو سال پہلے میری جس آدمی سے شادی ہوئی تھی اس نے مجھ سے جھوٹ بول کر نکاح کیا یعنی کہ وہ پہلے سے شادی شدہ اور ایک بیٹی کا باپ تھا لیکن اس نے مجھے اور میری فیملی کو خود کو کنوارہ بولا اور نکاح کرلیا۔ رخصتی کے بعد اس نے بتایا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے۔ شادی کے بعد مجھے یہ پتا چلا کہ وہ ناجائز تعلقات کا عادی ہے اور سوشل میڈیا پر عورتوں کو بلیک میل کرتا ہے۔ اس نے اپنی پہلی بیوی پر بدکرداری کا جھوٹا الزام لگایا اور اسے بھی بدنام کر دیا۔ شادی کے ایک مہینے بعد یہ واپس سعودیہ چلا گیا کیونکہ اس کی پہلی بیوی نے کیس کر دیا تھا اس پر تو اس سے بچنے کے لیے بھاگ گیا۔ مجھے تب ہی میرے ماں باپ کے گھر چھوڑ گیا تھا۔ پھر تین مہینے بعد اس نے مجھے طلاق بائن کے الفاظ بولے اور تین مرتبہ الگ الگ میسج کیا۔ یعنی ایک ساتھ نہیں بولے بلکہ پہلے ایک مرتبہ بولے پھر کچھ وقت بعد دوسری مرتبہ میسج پر ہی بولے اور تیسری مرتبہ بھی میسج پر ہی بولے۔ میں نے ایک دو عالموں سے پوچھا تو انہوں نے بولا کہ طلاق ہو گئی ہے اور پھر مجھے اس گھٹیا شخص کی فطرت کا بھی اچھے سے اندازہ ہے کہ اس نے پوری نیت سے بولے یہ طلاق بائن کے الفاظ اور پھر مکر گیا۔ میرے پاپا تب سے ہی اس سے میرے نام پر خرچہ منگوا رہے ہیں جو میں نہیں استعمال کرتی اور نہ مجھے ضرورت ہے۔
میں جب جب اپنے گھر والوں سے بات کرتی ہوں وہ تب تب مجھے یہ بول کر چپ کروا دیتے ہیں کہ یہ طلاق نہیں ہوئی اور تمہیں اسی کے ساتھ رہنا ہے۔ میں سارے حالات صبر سے چپ رہ کر برداشت کرتے کرتے تھک چکی ہوں اور اب کوئی قانونی قدم اٹھانا چاہتی ہوں۔ مجھے قانونی طور پر اب اس ناجائز حرام رشتے سے آزادی چاہیے کیونکہ میں اب مزید اس ذلت کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ پلیز میری مدد کیجیے اور مجھے فتوی لکھ کر دے دیں اور اس سب سے نجات دلا دیں۔
جا چلی جا،دفعہ ہوجا،فارغ ہےمیری طرف سے آج کے بعد،نمبر بلاک کرنے لگاہوں تیرا، آج سے سب ختم۔
میری طرف سے تم آزاد ہو اب، اب اگر تم نے کسی بھی میرے دوست کو میسج کیا تو بول دوں گا کہ میں نے ختم کردیا سب کچھ، اب کوئی رشتہ نہیں بچا، آزاد کردیا۔
واضح رہے کہ مذکورہ جملے مذاکرہِ طلاق کے دوران لکھے گئے ہیں۔
مذکورہ صورت میں خاوند نے لڑائی جھگڑے کے دوران میسیج میں یہ جملے کہے” چلی جا ،دفعہ ہو جا ،فارغ ہے” ان الفاظ سے آپ کو طلاق بائنہ ہو چکی ہے ،اس کے بعد دوسرے میسیج میں جو الفاظ کہے” میری طرف سے تم آزاد ہو۔۔” اگر ان الفاظ سے خاوند کی نیت طلاق کی ہے تو دوسری طلاق بائنہ بھی واقع ہو گی ورنہ ایک واقع ہوچکی ہے،لہذا صورت مسئولہ میں آپ میاں بیوی دونوں کے درمیان نکاح ختم ہوچکا ہے اور عدت گزارنے کے بعدآپ دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہیں ،نیز آپس میں بھی باہمی رضا مندی سے نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔
الفتاوى الهندية (1/ 374) دار الفكر
(الفصل الخامس في الكنايات) لايقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة۔
رد المحتار (3/ 296)سعید
(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال)۔