ازدواجی زندگی میں مختلف قسم کے حالات پیش آتے ہیں بسا اوقات بیوی شوہر کی نافرمانی کرتی ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ بیوی جب بھی شوہر کی نافرمانی کرے تو شوہر اسکو مارے یاسخت رویہ اختیار کرے بلکہ حتی الامکان پیار محبت حسن سلوک اخلاق کے ذریعہ سے اصلاح کی کوشش کی جائے۔ جبکہ اللہ تعالی نے اپنے کلام پاک قرآن مجید میں سورۃ النساء کی آیت نمبر(34)کے تحت شوہر کو واضح طور پرعورت کو سمجھانے کے درجات بیان فرمائے ہیں یعنی اگر عورتوں کی طرف سے نافرمانی پائی جائے تو پہلا درجہ ان کی اصلاح کا یہ ہےکہ نرمی سے انکو سمجھاؤ اور اگر وہ محض سمجھانے سے باز نہ آئے تو دوسرا درجہ یہ ہے کہ ان کا بسترہ اپنے سے جدا کردو تاکہ وہ اس جدائی سے شوہر کی ناراضگی کا احساس کرکے اپنے فعل پر نادم ہوجائیں۔ اور جو اس شریفانہ سزا و تنبیہ سے بھی متاثر نہ ہو تو پھر اسکو معمولی مار مارنے کی بھی اجازت ہے جس سے اسکے بدن پر اثر نہ پڑے اور ہڈی ٹوٹنے اور زخم بن جانے کی نوبت نہ آئے اور چہرہ پر مارنے کو مطلقا منع فرما دیا گیا ہے ۔ البتہ پہلی دونوں سزائیں شریفانہ سزائیں ہیں اور اسکو پسند بھی کیا گیا ہے ،مگر تیسری سزا اگرچہ مجبوری کی حالت میں مرد کو اجازت دی گئی ہے مگر اسکے ساتھ ہی حدیث میں یہ بھی ارشاد ہے ولن یضرب خیارکم ،یعنی اچھے مرد یہ مارنے کی سزا عورتوں کو نہ دیں ۔ یہ اصولی تفصیل ہم نے لکھ دی ہے تاہم بیوی کی نافرمانی کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ اپنے احوال میں مستند علماء کرام سے راہ نمائی لی جائے اور خود سے فیصلہ نہ کیا جائے۔
قال اللہ تعالی
{وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا } [النساء: 34]
المستدرك على الصحيحين للحاكم (3/632) ادارۃ العامة
عن أم كلثوم بنت أبي بكر رضي الله عنه، قالت: كان الرجال نهوا عن ضرب النساء، ثم شكوهن إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فخلى بينهم وبين ضربهن، ثم قال: لقد أطاف الليلة بآل محمد صلى الله عليه وسلم سبعون امرأة كلهن قد ضربت، قال يحيى: وحسبت أن القاسم قال: ثم قيل لهم بعد: «ولن يضرب خياركم»۔
البحرالرائق (5/81) مکتبة رشیدیة
بخلاف الزوج اذا عزر زوجته لترک الزینة والاجابة اذا دعاھا الی فراشه وترک الصلاۃ والخروج من البیت۔