بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوی کو بغیر کسی شرط کے تفویض طلاق دینے سے طلاق کا حکم

سوال

نکاح نامہ کی شق نمبر 18 میں یہ عبارت درج ہے ؛آیا شوہرنے طلاق کا حق بیوی کو تفویض کردیا ہے؟اگر کردیا ہے تو کونسی شرائط کےتحت؟کے جواب میں لکھاگیا “تفویض کردیا گیا بغیر کسی شرط کے “کیا طلاق کا حق مطلقاً تفویض ہوگیا ؟

جواب

نکاح نامےکی مذکورہ شق کی وجہ سےبیوی کوحقِ طلاق بغیرکسی شرط کےتفویض کرنےسےطلاق کاحق تفویض ہوجاتاہے۔ لہذامذکورہ صورت میں اگرعورت نےنکاح کےبعداپنےاوپرطلاق واقع کردی تواس پرایک طلاق بائن   واقع ہوجائےگی۔
الدر المختار (3/ 323)سعيد
 بخلاف لتطلقي نفسك أو حتى تطلقي فهي بائنة كما لو جعل أمرها بيدها لو لم تصل نفقتي إليك فطلقي نفسك متى شئت فلم تصل فطلقت كان بائنا لأن لفظة الطلاق لم تكن في نفس الأمر
الدر المختار (3/ 326)سعيد
وفي قولها في جوابه (طلقت نفسي واحدة أو اخترت نفسي بتطليقة بانت بواحدة) لما تقرر أن المعتبر تفويض الزوج لا إيقاعها
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 115) دار الكتب العلمية
لا يخرج الأمر من يدها أنه جعل الأمر بيدها في جميع الوقت، فإعراضها في بعض الوقت لا يبطل خيارها في الجميع كما إذا قامت من مجلسها أو اشتغلت بأمر يدل على الإعراض
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس