نمبر ۱۔بیوی نا فرمان ہے جو کہ شوہر سے گزشتہ 2 سال سے کلام تک کرنا گوارا نہیں کرتی ، اگر بولے تو بدزبانی کرتی ہے۔
نمبر ۲۔اولاد بیوی کی بے جا حمایت کرتی ہے اور شوہر کے خلاف اکساتی ہے۔
نمبر ۳۔بیوی بات بات پر جھوٹ بولتی ہے، شوہر کے مال و متاع او راشیاء کی حفاظت نہیں کرتی اور بچوں سے شوہر کی اشیاء چوری بھی کرواتی ہے۔
نمبر ۴۔تینوں بیٹوں کو بیوی نے اکسا کر باپ کے خلاف کر دیا ہے اور نوبت باپ کا گریبان پکڑنے اور جان سے ماردینےکی دھمکیوں تک آپہنچی ہے۔
نمبر۵۔بیوی خاوند کے کسی قسم کے حقوق ادا نہیں کرتی ایسی نافرمانی کی صورت میں کیا خاوند بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ اگر نہیں تو اس کا حل کیا ہے؟
نمبر ۶۔ بیوی کو راہ ر است پر لانے کے لیے شوہر خود بھی اور تمام رشتہ دار بھی بہت سے حربے استعمال کر چکے ہیں لیکن تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔
صورت مسئولہ میں اصلاح کی تمام کوشش ناکام ہونے کے باوجود پھر بھی اگر آپ بیوی کی بد اخلاقی پر صبر کرتے ہوئے اس کی اصلاح کی کوشش کرتے رہیں تو اس پر آپ اللہ تعالی کی طرف سے اجر عظیم کے مستحق ہوں گے اور اگر اس صورت حال میں آپ کے لیے بیوی کے ساتھ رہنا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں طلاق دینے کی گنجائش ہے لیکن یہ بات واضح رہے کہ تین طلاقیں ہرگز نہ دے بلکہ ایک طلاق دیکر عدت گزارنے تک انتظار کریں۔