بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوی اگر بد اخلاق ہو تو کیا کیا جائے؟

سوال

نمبر ۱۔بیوی نا فرمان ہے جو کہ شوہر سے گزشتہ 2 سال سے کلام تک کرنا گوارا نہیں کرتی ، اگر بولے تو بدزبانی کرتی ہے۔
نمبر ۲۔اولاد بیوی کی بے جا حمایت کرتی ہے اور شوہر کے خلاف اکساتی ہے۔
نمبر ۳۔بیوی بات بات پر جھوٹ بولتی ہے، شوہر کے مال و متاع او راشیاء کی حفاظت نہیں کرتی اور بچوں سے شوہر کی اشیاء چوری بھی کرواتی ہے۔
نمبر ۴۔تینوں بیٹوں کو بیوی نے اکسا کر باپ کے خلاف کر دیا ہے اور نوبت باپ کا گریبان پکڑنے اور جان سے ماردینےکی دھمکیوں تک آپہنچی ہے۔
نمبر۵۔بیوی خاوند کے کسی قسم کے حقوق ادا نہیں کرتی ایسی نافرمانی کی صورت میں کیا خاوند بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔  اگر نہیں تو اس کا حل کیا ہے؟
نمبر ۶۔ بیوی کو راہ ر است پر لانے کے لیے شوہر خود بھی اور تمام رشتہ دار بھی بہت سے حربے استعمال کر چکے ہیں لیکن تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں اصلاح کی تمام کوشش ناکام ہونے کے باوجود پھر بھی اگر آپ بیوی کی بد اخلاقی پر صبر کرتے ہوئے اس کی اصلاح کی کوشش کرتے رہیں تو اس پر آپ اللہ تعالی کی طرف سے اجر عظیم کے مستحق ہوں گے اور اگر اس صورت حال میں آپ کے لیے بیوی کے ساتھ رہنا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں طلاق دینے کی گنجائش ہے لیکن یہ بات واضح رہے کہ تین طلاقیں ہرگز  نہ دے  بلکہ ایک طلاق دیکر عدت گزارنے تک انتظار کریں۔
:الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(3/ 227)ایچ۔ایم۔سعید
(وإيقاعه مباح) عند العامة لإطلاق الآيات أكمل (وقيل) قائله الكمال (الأصح حظره) أي منعه (إلا لحاجة) كريبة وكبر والمذهب الأول كما في البحر، وقولهم الأصل فيه الحظر، معناه أن الشارع ترك هذا الأصل فأباحه، بل يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة غاية، ومفاده أن لا إث بمعاشرة من لا تصلي ويجب لو فات الإمساك بالمعروف ويحرم لو بدعيا۔
: سنن النسائي ،احمد بن شعیب(م:303)(2/71)محمودیۃ
عن أبي هريرة، قال: قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم: أي النساء خير؟ قال: «التي تسره إذا نظر، وتطيعه إذا أمر، ولا تخالفه في نفسها ومالها بما يكره»۔
:الكبائر للذهبي،محمد بن احمد(م:748)(ص: 179)بیروت
وقال صلى الله عليه وسلم أيما رجل صبر على سوء خلق امرأته أعطاه الله الأجر مثل ما أعطى أيوب عليه السلام على بلائه۔
: بدائع الصنائع،علاءالدین الکاسانی(م:587ھ)(2/485)علمیۃ
وأما السنة فما روي عن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – أنه قال (اتقوا الله في النساء فإنهن عندكم عوان لا يملكن لأنفسهن شيئا وإنما أخذتموهن بأمانة الله واستحللتم فروجهن بكلمة الله) لكم عليهن حق أن لا يوطئن فرشكم أحدا ولا يأذن في بيوتكم لأحد تكرهونه، فإن خفتم نشوزهن فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن ضربا غير مبرح ولهن عليكم كسوتهن ورزقهن بالمعروف۔
:  الفتاوی الھندیۃ،لجنۃ علماء برئاسۃ نظام ا لدین افندی(1/348)رشیدیۃ
(أما) الطلاق السني في العدد والوقت فنوعان حسن وأحسن فالأحسن أن يطلق امرأته واحدة رجعية في طهر لم يجامعها فيه ثم يتركها حتى تنقضي عدتها أو كانت حاملا قد استبان حملها والحسن أن يطلقها واحدة في طهر لم يجامعها فيه ثم في طهر آخر أخرى ثم في طهر آخر أخرى كذا في محيط السرخسي۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس