بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوی، ماں اور بیٹی کے درمیان وراثت کی تقسیم

سوال

امیر نامی ایک عورت فوت ہو گئی ہے اس کا خاوند، والدہ اور ایک بیٹی موجود ہے، باپ پہلے ہی فوت ہوگیا ہے، لڑکا ہے ہی نہیں، بھائی بھی نہیں ہے چاچا بھی پہلے فوت ہو گیا، چچاکی دو بیٹیاں موجود ہیں اور ایک پھوپھی موجود ہے ان میں وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

جواب

میراث کی تقسیم

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ حلال مال مثلاً: جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان چھوڑا ہے وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے اور مرحومہ کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات کی ادائیگی اس کے شوہر کے ذمہ لازم ہے؛ لہذا وہ مرحومہ کے ترکہ سے منہا نہیں کیے جائیں گے۔ البتہ مرحومہ کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو یا کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ قرض اور ایک تہائی مال کی حد تک وصیت مرحومہ کے مال سے ادا کی جائے۔ چونکہ سوال میں صرف تین ورثاء کا ذکر ہے، اگر واقعتاً مرحومہ کے یہی ورثاء ہیں اور اس کے باپ، دادا، پردادا اور اس کے اوپر جتنے بھی اصول ہیں ان میں سے کسی کی نسل میں کوئی مذکر مرد موجود نہیں تو پھر تقسیم میراث یوں ہوگی کہ مذکورہ تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو کچھ ترکہ بچے اس کے سولہ برابر حصے کیے جائیں، جن میں سے چار حصے مرحومہ کے شوہر کو، تین حصے والدہ کو اور نو حصے بیٹی کو دے دیے جائیں۔ نقشہ میراث درج ذیل ہے۔
چونکہ سوال میں صرف تین ورثاء کا ذکر ہے اگر واقعتاً مرحومہ کے یہی ورثاء ہیں اور اس کے باپ ،دادا ،پردادااور اس کے اوپر جتنے بھی اصول ہیں ان میں سے کسی کی نسل میں کوئی مذکر مرد موجود نہیں تو پھر تقسیم میراث یوں ہوگی کہ مذکورہ تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو کچھ ترکہ بچے اس کے سولہ برابر حصے کیے جائیں ،جن میں سے چار حصے مرحومہ کے شوہر کو،تین حصے والدہ کو اور نو حصے بیٹی کو دے دیے جائیں ۔نقشہ ِ میراث درج ذیل ہے

16

4 باقی 3                                        4

زوج (شوہر) ام(ماں) بنت(بیٹی)
ربع سدس نصف
  1 1 3
  4 3 9
     الدر المختار (6/ 759) دار الفكر
(بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير)
رد المحتار(6/ 759) دار الفكر
(قوله بتجهيزه) وكذا تجهيز من تلزمه نفقته، كولد مات قبله ولو بلحظة وكزوجته، ولو غنية على المعتمد در منتقى
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس