بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوہ تین بیٹیاں اور چار بھائیوں کے درمیان تقسیم میراث

سوال

ایک پلاٹ جس کی مالیت 22لاکھ ہے اوروارثوں میں ایک بیوہ ہے اوراس کی تین بیٹیاں ہیں اوراس مرحوم کےچاربھائی ہیں ان کےدرمیان اس پلاٹ کی رقم کی تقسیم شرعی  کیاہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں حقوق متقدمہ علی  المیراث (تجہیز وتکفین قرض اورجائز وصیت) کی ادائیگی کےبعدبقیہ بچےہوئےمال کےکل 288برابرحصےکئےجائیں گےجن میں سے36حصےمرحوم کی بیوہ کو،192حصےمرحوم کی تین بیٹیوں کو(فی بیٹی 64حصے)، اور60حصےمرحوم کےچاربھائیوں کودئیےجائیں گے(فی بھائی 15حصے)

تقسیم میراث کانقشہ حسب ذیل ہے

کل ترکہ 2200000

   مسئلہ24 ×12=288                                                                                       (12)

بھائی4 بیٹیاں3 بیوہ
عصبہ ثلثان ثمن
12 x 5 12 x 16 12 x 3
60 192 36
فی بھائی: 15 فی بیٹی :64 بیوہ:36

مندرجہ بالا نقشےکےمطابق بائیس لاکھ روپےورثاءمیں درج ذیل طریقےکےمطابق تقسیم ہوں گے

 بیوہ: 275000(دو لاکھ پچہتر ہزار روپے)

فی بیٹی:  488888.89(چار لاکھ اٹھاسی ہزار آٹھ سو اٹھاسی )

فی بھائی: 114583.33(ایک لاکھ چودہ ہزار سو تراسی ) ۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس