بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوہ ،2بیٹیاں اور 3 بیٹوں کے درمیان د و مختلف قسم کی زمینوں کی تقسیم

سوال

مرحوم وصیت، کفن دفن اور قرض کی ادائیگی مکمل ہونے کے بعد اپنی جائیداد میں سے دو کیٹیگری کی زرعی زمین چھوڑ کر فوت ہوا۔
اول کیٹیگری زرعی زمین کہ جسکا کل رقبہ 332کنال بنتا ہے۔
دوم کیٹیگری زرعی زمین کہ جسکا کل رقبہ 174 کنال 17 مرلہ بنتا ہے۔
ورثاء درج ذیل ہیں
زوجہ، تین بیٹے، دو بیٹیاں۔
قرآن حدیث کی روشنی میں دو مختلف کیٹیگری والی زرعی زمین کو کس طرح تقسیم کیا جائے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اولاً حقوقِ متقدمہ علی المیراث (تجہیز و تکفین ،قرض اور جائز وصیت ) کی ادائیگی کی جائے ،پھر زمین چونکہ دو کیٹیگریوں پر مشتمل ہے لہذا شریعت کے تقاضے کے مطابق ہر وارث کو دونوں قسم کی زمینوں سے حصہ دیا جائے، جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ دونوں قسم کی زمینوں میں سے ہر ایک زمین کے چونسٹھ (64) برابر حصے کیے جائیں ، جن میں سے بیوہ کو آٹھ(8) حصے ، فی بیٹے کو چودہ(14) اور فی بیٹی کو سات (7) حصے دیے جائیں ۔
تقسیم ِمیراث کا نقشہ مندرجہ ذیل ہے

2 بیٹیاں 3 بیٹے بیوہ
عصبہ ثمن
8×7/56 1/8

 

بیوہ : آٹھ(8) حصے

فی بیٹا: چودہ (14) حصے

فی بیٹی: سات (7) حصے

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس