بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوہ ، پانچ بہنیں بڑے بھائی کی اولاد کے درمیان تقسیم میراث

سوال

میری پھپھو بیوہ ہیں، ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ شوہر کے ماں باپ اور بڑا بھائی پہلے فوت ہوچکے ہیں۔ موجودہ ورثاء میں بیوہ، پانچ بہنیں ہیں۔
کیا جو بھائی پہلے فوت ہوچکا ہے اسکی اولاد وراثت میں حصے دار بنتے ہیں۔ قرآن وسنت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کا ترکہ ورثاء میں تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوق متقدمہ علی المیراث( تجہیز و تکفین، قرض/دین، جائز وصیت) کی ادائیگی کے بعد اگر مذکورہ ورثاء کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں تو بقیہ مال کے کل ساٹھ(60) حصے کرکے پندرہ (15) حصے بیوہ کو اور (,88) حصے ہر بہن کو دئیے جائیں گے۔ بقیہ پانچ (5) حصے میت کے قریبی مرد رشتے داروں میں تقسیم ہوں گے۔ مذکورہ صورت میں مرحوم کی اولاد ، والد یا بھائیوں میں سے اگرچہ کوئی مردرشتے دار نہیں ہے لیکن بھائی کی اولاد میں اگر کوئی لڑکا موجود ہو تو وہ شرعًاوارث ہوگا اور اگر نہ ہو تو دادا یا پڑدادا اوپر تک کی اولاد میں سے اگر کوئی مرد رشتے دار ہو تو ان میں سےمیت کا قریبی رشتے دار اس بقیہ حصے کا حقدار ہوگا اس لئے اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال پوچھ لیں۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس