بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوہ ،دو بیٹیا ں اور حقیقی بہن میں میراث کی تقسیم اورعلاتی بہن،بھائی حقیقی بہن کی وجہ سے محروم

سوال

صلاح الدین ولد محمد جعفر وفات پاگئے ہیں ۔ان کے والدین پہلے وفات پا چکے ہیں ،صلاح الدین صاحب کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی ورثاء میں ایک بیوہ اور دوبیٹیا ں یا سمین اور لبنی ٰہیں ،مرحوم کے وفات کے وقت اب کے حقیقی بہن بھائیوں میں سے ایک بہن شوکت سلطانہ زندہ تھیں ،جبکہ باپ شریک بہن بھائیوں میں سے ایک بھائی محمد ارشد اور تین بہنیں راحت جبین ،صغری اور مسرت زندہ تھیں۔صلاح الدین صاحب کی وراثت کی تقسیم کے سلسلے میں راہ نمائی در کار ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں حقوقِ متقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کے بعد جومال بچ جائے اس کے کل (24) برابر حصے کرکے اس میں سے مرحوم کی زوجہ کو (3)، بیٹی یاسمین کو(8) بیٹی لبنیٰ کو(8) اور بہن شوکت سلطانہ کو (5) حصے دئیے جائیں ، واضح رہے کہ باپ شریک بھائی بہنیں(محمد ارشد، راحت جبین، صغری اور مسرت) مرحوم کی وراثت میں حقدار نہیں ہوں گے۔
الدر المختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م: 1088ھ)(6/ 775)دارالكتب العلمية
(و) بعد ترجيحهم بقرب الدرجة (يرجحون) عند التفاوت بأبوين وأب كما مر (بقوة القرابة فمن كان لأبوين) من العصبات ولو أنثى كالشقيقة مع البنت تقدم على الأخ لأب (مقدم على من كان لأب) لقوله – صلى الله عليه وسلم – «إن أعيان بني الأم يتوارثون دون بني العلات». والحاصل: أنه عند الاستواء في الدرجة يقدم ذو القرابتين وعند التفاوت فيها يقدم الأعلى.۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس