بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوہ ،ایک بیٹی اور ایک بہن کے درمیان تقسیم میراث وراثت تقسیم ہونے سے پہلے والدین کا انتقال ہوجائے

سوال

نمبر ۱۔ایک شخص کا انتقال ہو ا اس کی بیوی ، ایک بیٹی اور ایک بہن ہے وراثت کس طرح تقسیم ہوگی ؟
نمبر ۲۔ ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کے والدین ، بیوی ، پانچ بھائی اور چار بہنیں زندہ تھیں ابھی وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ مرحوم کے والدین بھی وفات ہوگئے۔اب میت کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟

جواب

نمبر ۱۔          صورتِ مسئولہ میں میت کےکل ترکہ میں سےحقوق متقدمہ  علی المیراث کی ادائیگی کےبعدبقیہ مال کےکل آٹھ حصے کئےجائیں گے۔آٹھ حصوں میں سےایک حصہ میت کی بیوی کواورچارحصےمیت کی بیٹی کوجبکہ تین حصےمیت کی بہن کودےدیں۔

تقسیم میراث کانقشہ حسبِ ذیل ہے

حقیقی بہن بیٹی بیوی
عصبہ نصف ثمن
3 4 1

 نمبر ۲۔ مرحوم کےکل ترکہ سےحقوق متقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کےبعدبقیہ مال کےکل 12برابر حصےکرکے3حصےبیوی کواور7حصےمرحوم کےوالداور2حصےوالدہ کودےدیں۔ مرحوم کےبہن بھائیوں کومرحوم کےترکہ میں سےکچھ نہیں ملےگا۔

تقسیم میراث کانقشہ حسبِ ذیل ہے:

بہن4 بھائی5 ماں باپ بیوی
مرحوم مرحوم سدس عصبہ ربع
2 7 3

اس کےبعدمرحوم کےوالدین بھی وفات پاگئےہیں توجوحصہ والدین کومرحوم بیٹےکی طرف سےملاتھا وہ اور اس کےعلاوہ اگرکوئی ترکہ انہوں نےپیچھےچھوڑاہے اس سب کوملاکرحقوق متقدمہ علی المیراث کی ادئیگی کےبعدبقیہ مال کےکل 14برابرحصےکرکےمرحومین کی اولاد میں اس طرح تقسیم کردیں کہ ہربیٹےکودوحصےاورہربیٹی کوایک حصہ ملےگا بشرطیکہ والدین کاکوئی اورشرعی وارث نہ ہو۔

بیٹے 5 بیٹیاں4
عصبہ عصبہ
10 4
فی بیٹے کا حصہ 2 فی بیٹی کا حصہ 1

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس