بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوہ، پانچ بیٹے اور سات بیٹیوں میں تقسیمِ میراث

سوال

کیافرماتےہیں اس مسئلہ کےبارےمیں کہ مرحوم کےورثاء میں ایک بیوہ ہے پانچ بیٹےاورسات بیٹیاں ہیں وراثت کس طرح تقسیم ہوگی ؟کل رقم ساٹھ لاکھ روپےہیں ۔

جواب

سوال کی تحریرکےمطابق مرحوم کےانتقال کےوقت اس کےورثاء میں ایک بیوہ پانچ بیٹےاورسات بیٹیاں زندہ تھیں اگرصورتِ حال ایسی ہی ہےتوسب سےپہلےمرحوم کےکل ترکہ میں تجہیزوتکفین قرض کی ادائگی ایک ثلث مال کی حدتک وصیت نافذکرنےکےبعدکل ترکہ(جوکہ6000,000ہے)کے136حصےبناکر17حصےبیوہ کو14حصےہربیٹےکواور7حصےہربیٹی کودےدیں درجہ ذیل نقشےکےمطابق۔

مسئلہ:136

بیوہ بیٹے5 بیٹیاں7
17   فی کس14 فی کس 7
750,000                             فی بیٹا617647 فی بیٹی     308823
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس