بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوہ، نو بیٹیاں دو بھائیوں کے درمیان تقسیم میراث

سوال

ایک شخص جس کی ملکیت میں “اکیس کنال “زمین تھی اس کا انتقال ہوگیا اور سوگواران میں ایک بیوہ، نو بیٹیاں اوردو بھائی چھوڑے اب اس کے ترکہ کی زمین کو تقسیم کرنا ہے تو براہِ کرم زمین اس طرح تقسیم کی جائے کہ جس سے ہر ایک وارث کے حصے میں آنے والی زمین کا حصہ معلوم ہو جائے ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں حقوقِ متقدمہ علی المیراث (تجہیز و تکفین ،قرض اور جائز وصیت ) کی ادائیگی کی جائے،اس کے بعد مرحوم کی” اکیس کنال ” زمین جو چار سو بیس مرلے بنتے ہیں ان تمام مرلوں کو چار سو بتیس برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو چون (54) حصے ،ہر بیٹی کو بتیس(32) حصے اور دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک کو پینتالیس(45) حصے دیے جائیں ۔تقسیمِ میراث کا نقشہ حسبِ ذیل ہے : 24×18=432 مضروب 18
اخ(2) بنات (9) زوجہ(1)
عصبہ ثلثان ثمن
5×18=90 16×18=288 3×18=54

        مرلوں کے حساب سے تقسیم مندرجہ ذیل ہے

بیوہ:       52.5 مرلہ        فی بیٹی :            31.111مرلہ

فی بھائی:         43.75 مرلہ

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس