میرے والد محترم کا انتقال پر ملال ہوا ان کے ورثاء میں بیوہ، دو بیٹے اور دوبیٹیاں موجود ہیں۔ ان کی جائیداد میں ۱۳ مرلہ زمین اور اس میں موجود دو کمرے اور برآمدہ ہیں۔ ان کی تقسیم کیسے ہوگی؟ اگر زمین کو بیچتے ہیں تو پھر کسی کا گھر نہیں بنتا۔ اگر بھائی بہنوں کو راضی کرکے ان کی زمین کے بقدر ان کو پیسے دے دیں تو ایسا ہوسکتا ہے یا نہیں۔ اور اگر مرلوں کے حساب سے تقسیم کریں تمام بہن بھائیوں کے درمیان کتنے مرلے زمین آئے گی۔ اور مکان کی مالیت ۲۵ لاکھ ہے اس اعتبار سے کتنی کتنی رقم ہر فرد کو آئے گی۔ قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح راہنمائی فرمائیں تاکہ آئندہ زندگی میں کسی قسم کا نزاع نہ ہو۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کا ترکہ ورثاء میں تقسیم کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ:حقوقِ متقدمہ علی المیراث(تجہیز و تکفین، قرض اور جائز وصیت ) ادا کرنے کے بعد جو کچھ مال بچ جائے اس کو اڑتالیس(48) برابر حصوں میں تقسیم کر لیا جائے جن میں سے بیوہ کو چھ(6) حصے ،فی بیٹے کو چودہ (14) حصےاور فی بیٹی کو سات (7) حصے دیے جائیں ۔ اور رقم کے اعتبار سے اگر کل ترکہ پچیس لاکھ ہی ہو تو بیوہ کو 312500 ، فی بیٹے کو729166.66اور فی بیٹی کو 364583.33روپے دیے جائیں ۔تقسیم میراث کا نقشہ مندرجہ ذیل ہے: