بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوہ، دو بیٹے اور دو بیٹیوں کے درمیان ایک وراثتی مکان کی تقسیم

سوال

میرے والد محترم کا انتقال پر ملال ہوا ان کے ورثاء میں بیوہ، دو بیٹے اور دوبیٹیاں موجود ہیں۔ ان کی جائیداد میں ۱۳ مرلہ زمین اور اس میں موجود دو کمرے اور برآمدہ ہیں۔ ان کی تقسیم کیسے ہوگی؟ اگر زمین کو بیچتے ہیں تو پھر کسی کا گھر نہیں بنتا۔ اگر بھائی بہنوں کو راضی کرکے ان کی زمین کے بقدر ان کو پیسے دے دیں تو ایسا ہوسکتا ہے یا نہیں۔ اور اگر مرلوں کے حساب سے تقسیم کریں تمام بہن بھائیوں کے درمیان کتنے مرلے زمین آئے گی۔ اور مکان کی مالیت ۲۵ لاکھ ہے اس اعتبار سے کتنی کتنی رقم ہر فرد کو آئے گی۔ قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح راہنمائی فرمائیں تاکہ آئندہ زندگی میں کسی قسم کا نزاع نہ ہو۔

جواب

ترکہ میں موجود مکان کو بعینہ تقسیم کر کے ورثاء کو دینا ضروری نہیں ۔بلکہ ورثاء میں سے اگر کوئی باہمی رضا مندی سے جائیداد کی جگہ اپنے حصے کے بقدر رقم لینا چاہے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کا ترکہ ورثاء میں تقسیم کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ:حقوقِ متقدمہ علی المیراث(تجہیز و تکفین، قرض اور جائز وصیت ) ادا کرنے کے بعد جو کچھ مال بچ جائے اس کو اڑتالیس(48) برابر حصوں میں تقسیم کر لیا جائے جن میں سے بیوہ کو چھ(6) حصے ،فی بیٹے کو چودہ (14) حصےاور فی بیٹی کو سات (7) حصے دیے جائیں ۔ اور رقم کے اعتبار سے اگر کل ترکہ پچیس لاکھ ہی ہو تو بیوہ کو 312500 ، فی بیٹے کو729166.66اور فی بیٹی کو 364583.33روپے دیے جائیں ۔تقسیم میراث کا نقشہ مندرجہ ذیل ہے:

 48/8

2بیٹیاں 2بیٹیاں بیوہ
عصبہ ثمن
7×6 1×6
42 6

 

بیوہ 6حصے

فی بیٹا 14 حصے                    فی بیٹی7 حصے

نیز مرلوں کی تقسیم بھی مندرجہ بالا حصص کےاعتبار سے کر لی جائے  اور جس وارث کے حصے میں زمین کا ایسا ٹکڑاآجائے جو قیمت میں دوسروں کے حصے میں آنے والے ٹکڑے سے زائد ہو تو بذریعہ رقم حساب کتاب برابر کرلیا جائے یا جائیداد کو مرلوں کے بجائے مالیت کے حساب سے تقسیم کرلیا جائے۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس