بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوہ، دو بیٹوں اور چار بیٹیوں کے درمیان تقسیمِ میراث

سوال

میت نے اپنے پیچھے ایک بیوہ، دو بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑی ہیں، میت کا ترکہ ان میں کیسے تقسیم ہوگا؟ فیصدی اعتبار سے بھی بتائیے گا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ حلال مال مثلا: جائیداد ، سونا،چاندی ،زیورات ،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے اور سب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات اس کے ترکہ سے ادا کئے جائیں گے، اس کے بعد مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو یا اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ قرض اور ایک تہائی مال کی حد تک وصیت مرحوم کے مال سے ادا کی جائے۔اس کے بعد بچ جانے والے مال کے چونسٹھ برابر حصے کئے جائیں، جن میں سے آٹھ حصے مرحوم کی بیوہ کو ، چودہ حصے فی بیٹے کو اور سات حصے فی بیٹی کو دئیے جائیں ۔
تقسیمِ میراث کا نقشہ درج ذیل ہے
مسئلہ:8×۸=۶۴ ۸
بیوہ بیٹے(2) بیٹیاں(4)
ثمن عصبہ
1 7
8 56
۱۴+۱۴ ۷+۷+۷+۷

بیوہ کا  کل حصہ : ۸         ایک بیٹے  کا حصہ : ۱۴              ایک بہن کا حصہ : ۷

فیصدی اعتبار س حصوں کی تقسیم

بیوہ کو ملنے والا حصہ :  1/8*100=12.5%

بقیہ بچ جانے والے فیصدی حصے کو 8 برابر حصوں میں تقسیم کریں گے

87.5/8=10.875

ایک رکن   کو ملنے والا فیصدی حصہ :% 10.875

“للذکر مثل حض الانثیین” کے تحت  دو دو حصے بھائیوں کو اور ایک ایک بہن کو

ایک بھائی کو ملنے والا فیصدی حصہ : 21.75%

ایک بہن کو ملنے والا فیصدی حصہ : 10.875%

قال اللہ تعالی:النساء[ 4: 12]
 {وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ}.
النساء[ 4: 11]
{يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ}.
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس