ایک صاحب کا انتقال ہوا، بوقتِ انتقال پسماندگان ایک بیوی فوت شدہ۔ اولاد (دو بیٹے)۔ دوسری بیوی حیات، اولاد( تین بیٹے، چار بیٹیاں)۔
متوفی ایک کاروباری آدمی تھے جو کہ اپنی حیات کے آخر تک عملی طور پر کاروبار کرتے رہے۔ تاہم انہوں نے اپنی حیات میں سب سے بڑے بیٹے کو کاروبار اور تمام گھریلو امور کا ناظم مقرر کر دیا تھا یعنی تمام کاروبار کی ہر قسم کی رقم ناظم کے پاس آتی اور وہ اس میں سے گھریلو، کاروباری، ملن جلن، بھائی بہنوں کی شادیاں، جائیداد کی خرید وغیرہ کا خرچ مشترکہ اکاؤنٹ سے کرتا رہا۔ جبکہ کھانا پکانا، لباس اور دیگر معاملات ِ زندگی مشترکہ اور اکٹھےتھے۔ البتہ دیگر بھائی بھی وقت کے ساتھ ساتھ والد صاحب کی ہدایت کے مطابق کاروبار میں شامل ہوتے رہے اور حسب ہدایت معاونت کرتے رہے۔ کاروبار میں توسیع بھی ہوتی رہی اور مزید جائیداد بھی بنائی گئی۔ اسی طرح متوفی کی زندگی میں جو جائیداد منقولہ و غیر منقولہ بنی۔ اس میں سے متوفی نے کلی یا جزوی جائیداد کا کسی کو قطعی طور پر مالک نہیں بنایا۔
سوال یہ ہے کہ کسی ایک بیٹے کو ناظم الامور بنانے سے تقسیم وراثت میں اس کو کوئی خصوصی مراعات حاصل ہوں گی کہ نہیں؟ اور یہ کہ دیگر ورثاء کے حقوق وراثت کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
واضح رہے کہ بیٹے کو ناظم الامور بنانے سے تقسیم ِ میراث میں اس کو شرعاً کوئی خصوصی مراعات یا کوئی خاص حصہ نہیں ملے گا۔بلکہ تمام ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق میراث تقسیم ہو گی۔لیکن اگر تمام ورثاء باہمی رضا مندی سے خدمات کے پیشِ نظر تبرعاً دینا چاہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ حلال مال چھوڑا ہے خواہ وہ منقولی ہو یا غیر منقولی مثلاً: زمین جائیداد، نقد روپیہ، سونا ، چاندی اور گھریلو سازو سامان وہ سب شرعاً مرحوم کا ترکہ ہے۔جس سے سب سے پہلے تین حقوق بالترتیب ادا کیے جائیں گے(۱) تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات ، اگر کسی نے اپنی طرف سے ادا کر دیے ہیں تو وہ اس کی طرف سے تبرع ہو گا۔ ایسی صورت میں وہ ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے۔(۲)قرض کی ادائیگی بشمول بیوی کا مہر وغیرہ۔(۳) ایک تہائی 1/3مال کی حد تک جائز وصیت پوری کرنا۔اس کے بعد بقایا کل ترکہ کو۱۶ حصوں میں تقسیم کر کےمذکورہ ورثاء میں سے دو حصے مرحوم کی بیوہ (زندہ)کو ، دوحصے ہر ایک بیٹے کواورایک حصہ ہر ایک بیٹی کو دے دیں۔