بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوہ،تین(3) بیٹے ،تین(3) بیٹیوں میں میراث کی تقسیم

سوال

: عبد الحمید مر حوم نے اپنے تر کہ میں ایک مکا ن چھوڑا ہےجس کی مو جودہ ما لیت وقیمت مبلغ25,00000/= روپے ہے اور اس نے ورثاء میں 3 بیٹیاں اور 3 بیٹے اور ایک بیوہ کو چھوڑاہے۔ ان میں سے ہر ایک کا حصہ کتنا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں مرحوم عبد الحمید نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ، مکان ، کارخانہ ، پلاٹ ، سونا، چاندی ، نقدی ،مال تجارت، کپڑے برتن اور چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان چھوڑا ہے وہ سب مر حوم کا تر کہ ہے ۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جا ئیں البتہ اگر کسی نے یہ اخراجات اپنی طرف سے بطور احسان ادا کر دیے ہوں تو پھر انہیں مرحوم کے ترکہ میں سے نہ نکالا جائے ، اس کے بعد دیکھیں اگر مر حوم کے ذمہ کسی کا قر ض واجب الاداء ہو تو اسے اداکریں اور بیوہ کا مہر اگر مر حوم نے ادانہیں کیا اور بیوہ نے اپنی خوشی معاف بھی نہیں کیا تو بھی مرحوم کے ذمہ قرض ہے لہٰذا اسے بھی اداکریں اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم نے اپنی زندگی میں کسی غیر وارث کے لیےکوئی جا ئز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کی ایک تہائی کی حد تک اس وصیت پر عمل کریں ۔ اس کے بعد جو ترکہ بچ جائے (اگر صرف یہی مذکورہ وارث ہوں ان کے علاوہ کوئی اور وارث نہ ہو) تو اس کے کل (72) برابر حصے کرکے بیوہ کو(9)حصے ، فی بیٹے کو (14) اورفی بیٹی کو (7) حصے دیدیں ۔

تقسیمِ میراث کانقشہ حسبِ ذیل ہے۔

مسئلہ: 8 تص72                                                                مض:9

بیٹے3 بیٹیاں 3 بیوہ
عصبہ عصبہ ثمن
7 1
63 9
فی بیٹا14 فی بیٹی 7  

۔ 2500000 لاکھ روپے مالیت کی تقسیم

بیوہ:            312500(تین لاکھ بارہ ہزار پانچ سو روپے)

فی بیٹا:          486111(چار لاکھ چھیاسی ہزار ایک سو گیارہ روپے)

فی بیٹی:         55·243055(دو لاکھ تینتالیس ہزار پچپن اعشاریہ پچپن روپے)

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس