: عبد الحمید مر حوم نے اپنے تر کہ میں ایک مکا ن چھوڑا ہےجس کی مو جودہ ما لیت وقیمت مبلغ25,00000/= روپے ہے اور اس نے ورثاء میں 3 بیٹیاں اور 3 بیٹے اور ایک بیوہ کو چھوڑاہے۔ ان میں سے ہر ایک کا حصہ کتنا ہے؟
صورت مسئولہ میں مرحوم عبد الحمید نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ، مکان ، کارخانہ ، پلاٹ ، سونا، چاندی ، نقدی ،مال تجارت، کپڑے برتن اور چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان چھوڑا ہے وہ سب مر حوم کا تر کہ ہے ۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جا ئیں البتہ اگر کسی نے یہ اخراجات اپنی طرف سے بطور احسان ادا کر دیے ہوں تو پھر انہیں مرحوم کے ترکہ میں سے نہ نکالا جائے ، اس کے بعد دیکھیں اگر مر حوم کے ذمہ کسی کا قر ض واجب الاداء ہو تو اسے اداکریں اور بیوہ کا مہر اگر مر حوم نے ادانہیں کیا اور بیوہ نے اپنی خوشی معاف بھی نہیں کیا تو بھی مرحوم کے ذمہ قرض ہے لہٰذا اسے بھی اداکریں اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم نے اپنی زندگی میں کسی غیر وارث کے لیےکوئی جا ئز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کی ایک تہائی کی حد تک اس وصیت پر عمل کریں ۔ اس کے بعد جو ترکہ بچ جائے (اگر صرف یہی مذکورہ وارث ہوں ان کے علاوہ کوئی اور وارث نہ ہو) تو اس کے کل (72) برابر حصے کرکے بیوہ کو(9)حصے ، فی بیٹے کو (14) اورفی بیٹی کو (7) حصے دیدیں ۔