ایک مرحوم نے زندگی میں اپنی جائیداد میں سے ایک دوکان اپنے بیٹے کو ہبہ کر دی، جس پر اس کے بیٹے نے مرحوم کی زندگی میں ہی قبضہ کر لیا۔ اب مرحوم کے جو ورثاء ہیں ان میں ایک بیوہ، ایک بہن، دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں اور اس دوکان کے علاوہ مرحوم کی جائیداد کی کل مالیت ساٹھ لاکھ روپے ہے، یہ رقم ان ورثاء میں کیسے تقسیم ہوگی؟
واضح رہے کہ مرحوم کی وفات کے وقت ان کی ملکیت میں موجود ہر قسم کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ( نقدی سونا، چاندی، گھریلو ساز و سامان مشتر کہ و غیر مشتر کہ پلاٹ، گھر اور کاروبار ) سب شرعاً ترکہ ہے ، جس سے بالترتیب چار حقوق متعلق ہوتے ہیں۔ جن کی تفصیل یہ ہے ک
نمبر۱۔ سب سے پہلے اس ترکہ سے مرحوم کی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر کسی نے اپنی طرف سے تبرعاً ادا کر دیئے ہوں تو ان کو نہیں نکالا جائے گا۔
نمبر۲۔ پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا واجب الاداء قرضہ ہو تو بقیہ ترکہ سے اسے ادا کیا جائے۔ مرحوم نے اگر بیوہ کا مہر ادا نہیں کیا تو وہ بھی مرحوم کے ذمہ واجب الاداء قرض ہے جو اس کے ترکہ سے نکالا جائے ۔
نمبر۳۔ اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے ورثاء کے علاوہ کسی غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (۱/۳) مال کی حد تک اس پر عمل کیا جائے۔
نمبر۴۔ اس کے بعد بچ جانے والے مال کے چونسٹھ برابر حصے کئے جائیں، جن میں سے آٹھ حصے مرحوم کی بیوہ کو ، چودہ حصے فی بیٹے کو اور سات حصے فی بیٹی کو ملیں گے، جبکہ مذکر اولاد کی موجودگی کی وجہ سے بہن محروم رہ جائے گی۔ اورجودوکان مرحوم نے اپنی زندگی میں جس بیٹے کو ہبہ کی اور اس بیٹے نے مرحوم کی زندگی میں ہی اس پر قبضہ کر لیا تو وہ دوکان اس بیٹے کی ملکیت بن گئی اس میں دیگر ورثاء حق دار نہیں ہیں۔