تقریباً ایک ہفتہ قبل ہماری والدہ محترمہ کا قضاء الٰہی سےانتقال ہوا، والدہ مرحومہ کے ذمہ بیماری کی وجہ سے نمازیں باقی ہیں، انہوں نے نمازوں کے فدیہ کی ادائیگی کے بارے میں کوئی وصیت نہیں کی، البتہ ان کی وراثت میں مال موجود ہے، ان کی نمازوں کے فدیہ کے بارے میں کیاحکم ہے؟ اسے ان کے ترکہ میں سے اداکیاجائے گایا کہیں اور سے؟
صورتِ مسئولہ میں جب آپ کی والدہ صاحبہ نے اپنی قضاء نمازوں کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت نہیں کی تھی توورثاء پر ان کی فوت شدہ نمازوں کا فدیہ ادا کرنا واجب نہیں، البتہ كوئی وارث اپنی مرضی اور خوشی سے اپنے ذاتی مال میں سے فدیہ اداکرناچاہے تو کرسکتاہے، اسی طرح اگر تمام ورثاء عاقل و بالغ ہيں تو سب باہمی رضامندی سے مشترکہ ترکہ سے مرحومہ کی فوت شدہ نمازوں کا فدیہ ادا کرسکتے ہیں ، اور فدیہ ایک دن کا وتر سمیت چھ نمازوں کا ادا کریں اور ہر فرض اور واجب نماز کے بدلے میں پونے دو کلو گندم بلکہ احتیاطاً دو کلو گندم یا اس کی قیمت دیدیں ،اس طرح امید ہے کہ اللہ تعالی اس فدیہ کو مرحومہ کی قضاء نمازوں کے بدلے کے طور پر قبول فرمالیں گے اور مرحومہ کے ذمہ قضاء نمازوں کی ذمہ داری ختم ہو جائے گی ۔
ردالمحتار، ابن عابدين الشامي(م: 1252هـ) (2 / 72)سعيد
ثم اعلم أنه إذا أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعا لأنه منصوص عليه. وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص، وكذا علقه بالمشيئة فيما إذا أوصى بفدية الصلاة لأنهم ألحقوها بالصوم احتياطا لاحتمال كون النص فيه معلولا بالعجز فتشمل العلة الصلاة وإن لم يكن معلولا تكون الفدية برا مبتدأ يصلح ماحيا للسيئات فكان فيها شبهة كما إذا لم يوص بفدية الصوم فلذا جزم محمد بالأول ولم يجزم بالأخيرين، فعلم أنه إذا لم يوص بفدية الصلاة فالشبهة أقوى۔
مجمع الأنهر، عبد الرحمن بن محمد(م: 1078هـ)(1 / 250)دار إحياء التراث العربي
( وإن تبرع ) الولي ( به ) أي بالإطعام من غير وصية ( صح ) ويكون له ثواب ذلك وعلى هذا الخلاف الزكاة ( والصلاة ) المكتوبة أو الواجبة كالوتر هذا على قول الإمام وعندهما الوتر مثل السنن لا تجب الوصية به كما في الجوهرة ( كالصوم ، وفدية كل صلاة كصوم يوم ) أي كفديته