بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیع کا علم ہو جانے کے ایک دن بعد شفعہ کرنے کا حکم

سوال

چند شریکوں میں زمین مشترکہ ہے جن کی تعداد سات ہے ،زمین کا بٹوارہ نہیں ہوا لیکن حصص معلوم ہیں کہ فلاں کا اتنا حصہ ہےاور فلاں کا اتنا حصہ ہے لیکن زمین کی تعیین نہیں ہوئی ،ایک شریک اپنا حصہ دوسرے شریک کو فروخت کرتا ہے باقی شرکاء اس فروخت پر راضی ہیں لیکن ایک شریک کو فروخت کا علم ہو جانے کے بعد ایک دن اپنے گھر میں سکوت اختیار کر لیتا ہے،اور دوسرے دن بائع کے پاس جا کربد کلامی سے پیش آتا ہے اور دھمکی دینا شروع کر دیتا ہے کہ فلان شریک کو زمین آپ نے کیوں دی ؟اور پھر چند دن بعد مشتری پر حق شفعہ کا دعوی کرتا ہے کہ اس میں میرا حصہ ہے،یاد رہے کہ مشتری اور شفیع دونوں نفس مبیع میں شریک ہیں کیا شفیع حق شفعہ کا مستحق ہے؟

جواب

شفعہ کرنے کا حکم

واضح رہے کہ بیع مشاع جائز ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں ایک شریک کا اپنا حصہ دوسرے شریک کو بیچنا شرعاً جائز ہےاورشفیع کوزمین پر شفعہ کا حق اس وقت حاصل ہوتاہےجب اس کو فروخت کا علم ہوتے ہی وہ فوراً بلا تاخیر اپنا حق شفعہ طلب کرے،جبکہ صورت مذکورہ میں شفیع نے ایک دن تاخیر کی ہےلہذا اس تاخیر کے باعث اس کا شفعہ کا حق ختم ہو گیا ہے۔
فقه البيوع (1/362)معارف القرآن
يجوز بيع حصة مشاعة من بناء،أو أرض ،أو عروض بشرط أن لا يستلزم ضرراّ على الشريك الذي لم يبع حصته و هذا مما اتفقت عليه المذاهب الأربعة
مجمع الأنهر (۴/ ۱۰۴)المنار
فإذا علم الشفيع بالبيع يشهدفي مجلس علمه أنه  يطلبهاويسمى طلب المواثبةثم يشهد عند العقار،أوعلى المشتري، أو على البائع ،إن كان المبيع فی يده فيقول اشترى فلان هذه الدار وقد كنت طلبت الشفعة وأنا أطلبها الآن فاشهدوا على ذلك،  ويسمى هذا الطلب طلب تقرير و اشھادثم يطلب عند قاض فيقول اشترى فلان داركذا وأنا شفيعها بسبب كذافمره بالتسليم إلي ويسمى طلب خصومة وتمليك ولا تبطل الشفعة بتأخيره مطلقافي ظاهر المذهب ،وعليہ الفتوى
البحر الرائق (8/232)رشيدية
 (فإن علم الشفيع بالبيع أشهد في مجلسه على الطلب) وهو طلب المواثبة وسمي به لقوله – عليه الصلاة والسلام – «الشفعة لمن واثبها» ۔۔۔۔۔والشرط أن يطلب إذا علم الفور من غير تأخير ولا سكوت؛ لأن سكوته بعد علمه يدل على رضاه بالمشتري فتبطل شفعته إذا كان بعد العلم بالمشتري والثمن؛ لأن السكوت إنما يكون دليل الرضا بالعلم بها، فإذا أخبر بحضرة شهود يشهدهم عليه، وإن لم يكن بحضرته أحد يطلب من غير إشهاد والإشهاد لمخالفة الجحود والطلب لا بد منه كي لا يسقط حقه فيما بينه وبين الله تعالى ولتمكنه من الحلف إذا حلف ولئلا يكون معرضا عنها وراضيا، وكون الطلب متصلا يعني على الفور هذا عند عامة المشايخ ۔
الهداية (4/2686)البشري
وإذا علم الشفيع بالبيع أشهد في مجلسه ذلك على المطالبة” اعلم أن الطلب على ثلاثة أوجه: طلب المواثبة وهو أن يطلبها كما علم، حتى لو بلغ الشفيع البيع ولم يطلب شفعة بطلت الشفعة لما ذكرنا، ولقوله عليه الصلاة والسلام: “الشفعة لمن واثبها”…  والثاني طلب التقرير والإشهاد؛ لأنه محتاج إليه لإثباته عند القاضي على ما ذكرنا…  والثالث طلب الخصومة والتملك
البحر الرائق (8/228)رشيدية
اشترى الجار دارا ولها جار آخر من جانب آخر وطلب الشفعة تقسم الدار بين المشتري والجار نصفين
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس