ہم مختلف سپلائرزسے مال خرید تے ہیں ان میں سے بعض مال بناکر دیتے ہیں اور بعض مال خرید کر دیتے ہیں دونوں ہی مال پہنچانے میں تاخیر کرتے ہیں جس کی وجہ سے کمپنی کو نقصان ہوتا ہے ،ایسی صورت میں اگر ہم پر چیز آرڈر میں شرط لگالیں مثلاً یکم جنوری تک مال وصول ہو گیاتو ٹھیک ورنہ ہمیں آرڈر کینسل کرنے کااختیار ہوگا،تو کیایہ شرط شرعاً درست ہے ؟نیزیہ شرط لگائے بغیر مقررہ تاریخ تک سپلائر کی طرف سے مال نہ پہنچنے کی صورت میں ہمیں کب تک انتظار کرناضروری ہے ؟کتنی مدت گزرنے کے بعد ہمیں آرڈر کینسل کرنے کااختیار حاصل ہو سکتاہے؟ اور مقررہ تاریخ کے بعد اگر سپلائر مال پہنچائے تو کیا ہمارے لئے اس مال کو قبول کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ اور اس مال کو رد کرنے کی صورت میں کل یابعض ثمن جوکہ ایڈوانس اداکردیاگیاہو اس کی واپسی کی صورت وطریقہ کار کیاہوگا؟
بلاشبہ سپلائر کے لئےمقررہ تاریخ سےبلاوجہ تاخیرکرناجائز نہیں ہے، لیکن جب خریدوفروخت کا معاملہ مکمل ہوجائے تو محض مال پہنچنے میں تاخیرکی وجہ سےیکطرفہ معاملہ ختم کرنا درست نہیں ہے ۔
تاخیرکے نقصان سے بچنے کے لئے یہ طریقہ اختیارکیاجاسکتاہے کہ فی الحال خریدوفروخت کا معاملہ نہ کیاجائے بلکہ صرف وعدہ کیا جائے کہ ہم فلاں (متعینہ)تاریخ مثلاً یکم جنوری کو آپ سے فلاں مال اتنی(متعینہ) مقدار میں اس (متعین)ریٹ پر خریدیں گے ،اس صورت میں سپلائر کوپابند کیاجاسکتاہے کہ وہ مطلوبہ مال مقررہ تاریخ تک مہیاکرے اور یہ شق بھی رکھی جاسکتی ہے کہ سپلائر اگربروقت مال مہیا نہ کرے تواس کی وجہ سے کمپنی کو جوواقعی نقصان ہوگا سپلائر اس کی تلافی کرے گا(نیزاس صورت میں کمپنی کو بھی پابندکیاجاسکتاہے کہ اگر سپلائر بروقت مال لے آئے اور وہ مطلوبہ اوصاف کے مطابق ہوتو اسے قبول کرے ورنہ سپلائرکوجوواقعی نقصان ہوگاکمپنی اس کی ذمہ دار ہوگی)۔
اسی طرح اگرکسی ایسےمال کومقررہ تاریخ پر پہنچانے کا آرڈر دیاجارہاہوجس میں کاریگری (مینوفیکچرنگ)کرنی پڑتی ہوتووہاں باہمی رضامندی سے یہ شرط بھی عائدکی جاسکتی ہے کہ سپلائر مال پہنچانے میں جتنے دن تاخیرکرے گا فی یوم کے حساب سے اتنی قیمت کم ہوجائے گی۔