بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیعانہ کی رقم كا حكم

سوال

زید احمد سے کپڑا خریدتا ہے تقریباً تیس ہزار میں بیع مکمل ہو جاتی ہے۔ زید فی الحال دس ہزار ادا کر دیتا ہے اور باقی کچھ مدت بعد ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہے ۔ زید جب تک پیسے ادا نہیں کرتا وہ کپڑا احمد کے پاس ہی رہتا ہے ۔ کچھ مدت بعد زید کہتا ہے کہ میں یہ کپڑا نہیں خرید سکتا اور بقیہ ماندہ رقم ادا نہیں کر سکتا ۔ لہذا جو رقم آپ کو دی ہے وہ مجھے واپس کر دو ۔ بائع یعنی احمد کہتا ہے کہ ایسے تو میر انقصان ہو جائے گا ۔ اس مدت میں میں یہ کپڑا کسی اور کو بیچ سکتا تھالیکن مشتری یعنی زید کی وجہ سے نہیں بیچا لہذا وہ رقم واپس نہیں کروں گا۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا احمد کے لیے وہ رقم رکھنا جائز ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بائع (احمد) کے لیے اس رقم کو لینا جائز نہیں ہے ۔ البتہ اگر بائع یعنی (زید) کا حقیقی نقصان ہوا ہو تو اس کی تلافی کے لیے اپنے نقصان کے بقدر رقم لی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ نقصان سے مراد حقیقی نقصان ہے مثلاً ایک چیز کی قیمت مارکیٹ میں ۳۰ ہزار ہے۔ مگر مشتری کے انکار کرنے کے بعد اس چیز کی قیمت میں کمی آگئی۔ یعنی اب وہ چیز ۲۵ ہزار میں فروخت ہورہی ہے تو بائع کے لیے یہ پانچ ہزار مشتری سے وصول کرنا جائز ہے لیکن اگر اس چیز کی قیمت ۳۰ ہزار ہے اور بائع نے مشتری کو وہ چیز ۳۵ ہزار میں فروخت کی۔ اب جب مشتری نے بیع سے انکار کر دیا اور وہ چیز اب بھی مارکیٹ میں ۳۰ ہزار کی فروخت ہو رہی ہے تو یہ نقصان وصول کرنا جائز نہیں ہے ۔ یعنی بائع کے لیے متوقع نفع وصول کرنا جائز نہیں ہے۔
سنن ابن ماجه (٤٣٢/٣) دار الرسالة العالمية
عن ابن عباس، قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: “لاضرر ولا ضرار”۔
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (۲۹۲/۱) دار العلوم كراتشي
الأصل في الشريعة الاسلامية أنه لا يجوز لأحد ان يفعل فعلا يضـر بـآخر ، فان أضــر بفعله احدا فالأصل أنه ضامن۔
اعلاء السنن (۶۰۲۳/۱۲) دار الفكر
٤٦٧٢ – عن عمر و بن شعيب، عن أبيه ، عن جده: «أن رسول الله الله نـهـي عـن بيــع العربان۔ قال مالك : وذالك فيما نري ۔ والله اعلم ۔يشتري الرجل العبد أو الوليدة أويتكارى الدابة ، ثم يقول للذي اشترى منه أو تكارى منه أعطيك دينارا أو درهما أو أكثر من ذلك أو أقل، على أنى إن أخذت السلعة أو ركبت ما تكاريت منك ، فالذي أعطيتك من ثمن السلعة أو من كراء الدابة ، وإن تركت ابتياع السلعة أو كراء الدابة فما أعطيتك لك باطل بغير شيء۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس