بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیعانہ کی ادائیگی کے بعد قبل القبض زمین آگےفروخت کرنا

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ زید نے بکر سے پلاٹ خریداری کا سودا طے کیا ، زیدنے بیعانہ کی ادائیگی کے بعد یہی پلاٹ تیسرے فریق عمرو کو مع النفع فروخت کر دیا اور رجسٹری کے وقت عمرو کا نام دے دیا   ،کیا زید کا ایسا معاملہ کرنا اور عمروکا خریدنا شریعت اسلامیہ میں جائز ہے ؟

جواب

اگر شرعیِ اصولوں کے مطابق بیع کا معاملہ فروخت کنندہ اور خریدار کے درمیان طے ہوجائے اس صورت میں بیعانہ   کےبعد کل رقم کی ادائیگی سے قبل بھی زمین کو آگے فروخت کیا جا سکتا ہے لیکن واضح رہے کہ یہ حکم زمین کا ہے دیگر منقولی اشیاء میں قبضہ  ضروری ہے،یعنی قبضہ کے بغیر آگے  فروخت کرنا جائز نہیں۔
الفتاوى الهندية،لجنۃ علماء برئاسۃ نظام الدین البلخی(3/ 13)رشیدیۃ
اشترى دارا أو عقارا فوهبها قبل القبض من غير البائع يجوز عند الكل ولو باع يجوز في قول أبي حنيفة وأبي يوسف – رحمهما الله تعالى – ولا يجوز في قول محمد – رحمه الله تعالى – ولو آجرها قبل القبض من البائع أو غيره لا يجوز عند الكل۔
 شرح المجلة،محمد خالد الاتاسي(2/173)رشیدیۃ
للمشتری أن یبیع المبیع لآخر قبل قبضه إن کان عقارا  وأشار بقوله : للمشتری أن یبیع الخ : إلی أن بیعه جائز، لکن لایلزم من جواز البیع نفاذه ولزومه؛ فإنهما موقوفان علی نقد الثمن أو رضی البائع، وإلا فللبائع إبطاله أی إبطال بیع المشتري۔
البحر الرائق،ابن نجيم المصري(م:970ه)(6/193)رشیدیۃ
قوله (صح بيع العقار قبل قبضه) أي عند أبي حنيفة وأبي يوسف، وقال محمد لا يجوز لإطلاق الحديث، وهو النهي عن بيع ما لم يقبض، وقياسا على المنقول وعلى الإجارة، ولهما أن ركن البيع صدر من أهله في محله ولا غرر فيه لأن الهلاك في العقار نادر بخلاف المنقول، والغرر المنهي غرر انفساخ العقد، والحديث معلول به عملا بدلائل الجواز۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس